بُخارِ دل

by Other Authors

Page 288 of 305

بُخارِ دل — Page 288

288 اک آدمی پہاڑ کا پیرو تھا جس کا نام نالی کا صاف کرنا تھا کام اُس کا صبح و شام پڑتا تھا چونکہ دونوں کو اک دوسرے سے کام ہونے لگا کلام کبھی کچھ کبھی سلام آخر کو ہوتے ہوتے ملاقات ہو گئی جس بات کی تھی آرزو وہ بات ہو گئی پیر و کی سر پرستی میں سب غم گئی وہ بھول پھر کھل گیا وہ دل کا جو مُرجھا گیا تھا پھول پھر راحتِ دل از سر کو ہوئی حصول اس نے اُسے اور اُس نے اِسے کر لیا قبول بیوی میاں کی طرح لگی ہونے پھر بسر اپنوں کا کچھ نہ خوف نہ غیروں سے کچھ خطر یہ اُس پہ شیفتہ تھی وہ تھا اس پہ مہرباں پیسے روپے سے اس کی مدد کرتا تھا نہاں بدلے میں یہ بھی اس کو کھلاتی میٹھائیاں ہر روز میٹھے ٹکڑوں کی لاتی رکابیاں بڑھنے لگے یہ پینگ محبت کے رات دن اُس کو نہ چین اس سوا اس کو نہ اُس کے بن پیر فلک نے یاں بھی نہ چھوڑا ہزار کیف عیش و خوشی کے بند کو توڑا ہزار حیف طاعوں سے سر کو پیرو کے پھوڑا ہزار کیف اٹکایا چلتی گاڑی میں روڑا ہزار حیف آنکھوں میں جائے اشک بھر آیا تھا لہو دیوانہ وار پھرتی تھی قصبہ میں کو بگو آہ وفغاں سے دل کا دھواں جب نکل پکا موقوف رفتہ رفتہ ہوا گریہ و بکا چشمان تر کو صبر کے دامن سے پھر سکا اپنے تئیں اک اور کے ہاتھوں دیا چُکا