بُخارِ دل

by Other Authors

Page 231 of 305

بُخارِ دل — Page 231

231 کیا دیکھا؟ ہم نے دنیا میں آ کے کیا دیکھا اک نبی دیکھا، اک خدا دیکھا باغ انگلوں نے جو لگائے تھے ہم نے سب کو ٹچا کھچا دیکھا باپ بیٹے کو بھائی بھائی کو ایک کو ایک ایک کو ایک سے جدا دیکھا آخرت کے ہیں یاں جو نمبردار جب بھی دیکھا، انہیں خفا دیکھ دین کے نام پر انہیں دائم پیٹ کے غم میں مبتلا دیکھا درد اپنے لا دوا دیکھا نظر لطف کے سوا تیرے سگ دنیا کو چیختے ہی سُنا خوش فقط مرد باخدا دیکھا عمل معلم کو معلم کو اک کتابوں لدا گدھا دیکھا عالم سید اسکندری تھی جسم خود ہی پھر اُس کو ٹوٹتا دیکھا ہارتے پایا اہل باطل کو راستبازوں کو جیتتا دیکھا نفس امارہ، تیرے در کو چھوڑ وقت پیری ہوا جو حافظہ گم در بدر بھیک مانگتا دیکھا برابر ہوا سُنا، دیکھا تاک میں ہے، مگر نہیں آتی ہر طرح موت کو بلا دیکھا گوشت خوروں کی تندیاں دیکھیں دال خوروں کا حافظہ دیکھا قادیاں کا جو ایک قصبہ ہے دین کا اُس کو مورچہ دیکھا