بُخارِ دل

by Other Authors

Page 230 of 305

بُخارِ دل — Page 230

230 کے شوز یا رب! کہ بینم رُوئے دوست گے بوڈ کاں دلستاں آید ہے بیر صحت یار شد در مرغزار تا به جسم و جاں، تو ان آید ہے اں اے صبا! از بلبلان مزوده بسیار کاں گلے در گلستاں آید ہے درد ما شعرم بخواں پیش شہم کیں فغاں از قادیاں آید ہے (الفضل 22 ستمبر 1945ء) 2 فقر اور افلاس کی ایک حکمت اگر سب غریبوں کو دے دو امارت تو دنیا کا کل آئمن کر دیں گے غارت اہلِ دَوَل اور یہ اہلِ حکومت نہ کرنا بلا وجہ ان کی حقارت کہ یہ اُن غریبوں سے بہتر ہیں بے شک نظر آ رہے ہیں جو اہلِ ولایت اگر ان مساکیں کو مل جاتی دولت تو دکھلاتے اُن سے بھی بڑھ کر شقاوت خدا نے مصائب میں ہے اُن کو جکڑا کے ظاہر نہ ہو اُن کی مخفی بغاوت غریبی بھی اُن کی خدا کا کرم ہے ہر اک کام میں اُس کی ہوتی ہے حکمت یہاں اُن کا ہمدرد سارا جہاں ہے وہاں جا کے مل جائے گی اُن کو جنت 1 طاقت 2 مولوی عبدالرحیم صاحب درد