بُخارِ دل

by Other Authors

Page 189 of 305

بُخارِ دل — Page 189

189 میں تو عہد وں کو نہ مانگوں اور نہ چاہوں اے عزیز مجھ کو کیا عہدوں سے میرا کام ہے عرفانِ یار معرفت بنیاد ہے عشق و محبت کی مُدام اور محبت کھینچتی ہے نعمت رضوانِ یار جب رضا ہم کو ملی سمجھو کہ سب کچھ مل گیا قرب یار و وصلِ یار و لطفِ بے پایانِ یار 2 دنیا میں دیدار الہی آنکھوں سے نہیں بلکہ کسی قدر عقل سے اور زیادہ تر نشانات کے ذریعہ ہوتا ہے جس پر بے دیکھے مریں وہ آپ کی سرکار ہے آنکھ ہے لا چاڑیاں، گو عقل کچھ بیدار ہے عقل سے ممکن ہے ادراک صفات ڈوانحلال ورنہ ہر جس جسم انسانی کی یاں بیکار ہے انبیاء کے ہاتھ پر ہوتا ہے لیکن جو ظہور اس قدر پُر زور ہے۔گویا کہ وہ دیدار ہے ذرے ذرے میں نظر آتا ہے وہ زندہ خدا نصرتوں اور غیب کی ہوتی عجب بھرمار ہے ہم نے اپنی آنکھ سے دیکھا مسیح پاک کو یوں نشاں آتے تھے جیسے اک مسلسل دھار ہے