بُخارِ دل

by Other Authors

Page 188 of 305

بُخارِ دل — Page 188

188 یہاں کیا کام دیوانوں کا بستی سے نکل جائیں جو ہیں بیتاب مرنے کو ٹھکانا اُن کا جنگل ہے کفن احرام اور لبیک نعرہ ہے شہادت کا کرم لیلی کا عمل ہے، منی عاشق کا مشن ہے مبارکباد ے طالب ! کہ ظلمت گاہ عالم میں حبیب یار رہبر ہے، کلام یار مشکل ہے مشو مَعْمُوم از فکر صفائے باطن اے زاہد! کہ جتنے زنگ مخفی ہیں محبت سب کی صیقل معرفت الہی ہے 1 - خداشناسی اور معرفت کا حاصل کرنا ہر مومن کا فرض مُقدم ہے چھ سات سال کا ذکر ہے کہ ایک دن میں بیت الفکر میں لیٹا ہوا اُونگھ رہا تھا اور یہ نظارہ دیکھ رہا تھا کہ کوئی آدمی عہدوں کی بابت ذکر کر رہا ہے۔اتنے میں کسی نے زور سے میری چار پائی ہلائی اور میں یہ الفاظ کہتا ہوا بیدار ہو گیا کہ ”میں تو ان باتوں کو نہ چاہوں نہ مانگوں ( یعنی عہدے ) اس پر میں نے یہ شعر لکھے ہیں۔مد نظر یہ خیال ہے کہ معرفت الہی اور خدا شناسی ہر مومن کا پہلا فرض ہے۔کیونکہ بغیر معرفت کے محبت اور تعلق پیدا نہیں ہو سکتے بلکہ ایسا خیال ہی لغو ہے۔اور بغیر خدا شناسی کے آدمی کسی عہدے پر پہنچ بھی جائے تو وہ اُس کے لئے ابتلا ہے نہ کہ انعام اور مجھے تو اس دن سے اس لفظ سے ہی نفرت ہوگئی ہے۔1 میدان عرفات