بُخارِ دل — Page 190
190 الغرض ہوتا ہے آلہ حق شناسی کا رسول ٹور ہے مرسان تو مرسن مطلع الأنوار ہے 3 - دیدار الہی معرفت ہی کا دوسرا نام ہے تو جسم ہے وہ رُوح ہے۔آئے گا نہ ہرگز آنکھوں سے نظر تجھ کو وہ سرکارِ الہی دنیا ہو کہ عظمی ہو صفات اُس کے ہیں ظاہر عرفان خدا ہی تو ہے دیدار الہی 4- میں نے خدا کو نشانوں سے پہچانا نہ کہ عقل سے 5 / نومبر 1936ء جمعرات صبح 5 بجے کا ذکر ہے کہ اوپر والا فقرہ میری زبان پر جاری ہوا۔اتفاقاً آج ایک کاپی میں مجھے اس تاریخ کا یہ نوٹ مل گیا جس پر میں نے اس کا مضمون نظم کر دیا۔کہہ دو یہ نکتہ طالب عرفان و وصل سے میلتی خدا شناسی ہے محض اُس کے فضل سے آتی ہے معرفت بھی نشانوں کی معرفت پاتا نہیں خدا کو کوئی صرف عقل سے 5- دعا برائے معرفت آنکھیں جو کھلیں دل کی، تو دیدار ہے ہر جا اور بند ہوں تو عرش کے آگے بھی ہے اندھا