حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 26
حضرت کو زینب صاحبہ 26 حضرت بو زینب صاحبہ کے صاحبزادے مرزا ظفر احمد صاحب مرحوم آپ کے بارہ میں اپنے مضمون میری والدہ ( روزنامه الفضل مورحمه 1 ستمبر 1984ء) میں لکھتے ہیں:۔16 شادی کے بعد میری والدہ نے اپنے مالیر کوٹلہ والے رشتہ داروں سے تعلق بہت کم رکھا سوائے اپنی پھوپھی کے جو انہیں بہت چاہتی تھیں، لیکن اگر کوئی مالیر کوٹلہ سے جاتا تو اس کی بہت خاطر کر تھیں اس طرح اپنے بچوں سے بھی یہی امید رکھتیں کہ وہ بھی ان کے عزیزوں سے اچھی طرح ملیں گے۔اگر مالیر کوٹلہ سے کوئی ایسی عورتیں آتیں یا ایسے مرد آتے جو آپ کے کسی عزیز کے کام کرتے تھے تو وہ انہیں خالی ہاتھ بھیجتیں بہت مہمان نواز تھیں جو بھی آتا اس کی خوب خاطر تواضع کرتیں۔مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا، تو ایک بڑھا سکھ اپنے گاؤں جاتا ہوا ہمارے کنوئیں کے پاس ٹھہر جاتا اور کہتا اپنی امی کو میر اسلام کہہ دو۔میری والدہ یہ سن کر چینی بھجوا دیتیں، مقصد یہ تھا کہ وہ شربت بنا کر پی لے، غالباً انہیں یہ خیال تھا کہ ہمارا بنایا ہوا شربت پینا شاید پسند نہ کرے۔چینی آنے سے وہ کنوئیں سے ٹھنڈا پانی لے کر خود شربت بنا کر پی لیتا اور 66 پھر سلام کہہ کر چلا جاتا۔“