حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 25
حضرت کو زینب صاحبہ 25 جاتیں۔غیبت، چغلی سے تو انہیں بہت چڑ تھی نہ خود کرتیں ، نہ سنتیں ،لڑائی سے سخت گھبرا تیں۔ان کی صاحبزادی امتہ الباری بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ”امی کہتی تھیں کہ میرے سامنے محبت اور جھگڑے نہ کیا کرو ، اور مجھے تو اتنا ٹوکتیں کہ کوئی کچھ کہے تم نے نہیں بولنا۔‘“ بھائی (حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب) چھیٹر تے کہ پوتسی باری دی زبان ہی کٹ دینی ائے ( آپ نے باری کی زبان ہی کاٹ دینی ہے۔تو فوراً کہتیں کہ ہاں زبان ہی کاٹ دینی ہے۔میری شادی ہوئی تو مجھے نصیحت کی دیکھو! باری میرے بھائی کو تم سے کوئی تکلیف نہ پہنچے " (صاحبزادی امتہ الباری بیگم صاحبہ ان کے بھائی نواب عبداللہ خان صاحب کے بڑے بیٹے خانزادہ عباس احمد خان سے بیاہی گئی ہیں۔) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کی بیگم صاحبہ حضرت صاحبزادی امتہ السبوح بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ :۔حضرت بو زینب صاحبہ بے حد محبت کرنے والی دعا گو اور صابر و شاکر خاتون تھیں۔کبھی بھی ان کے منہ سے کسی کا کوئی گلہ شکوہ نہیں ستا، جب یہ کہیں باہر جانے لگیں۔ملنے گئیں اور دعا کیلئے کہا تو فرمایا: تم میرے مسرور کی بیوی ہو کیا تمہارے لئے دعا نہیں کروں گی۔“