حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 18
حضرت بو زینب صاحبہ 18 کی وجہ سے ) جانا چھوڑ دیا تھا۔اپنی بیٹیوں سے کہتیں کہ تیار ہو کر مجھے مل کہ جانا ، کہیں ایسا ویسا تیار ہو کر چلی جاؤ، پھر انہیں چیک کرتیں زیور پہنا ہے یا نہیں ، خوشبو لگائی ہے یا نہیں۔جب یہ لوگ تقریب سے واپس آتے تو بڑے شوق سے اور پیار سے پوچھا کرتیں کہ دلہن کیسی لگ رہی تھی ؟ جوڑا کیسا تھا؟ کیا کیا زیور پہنا تھا ؟ دولہا کیسا لگ رہا تھا ؟ لیکن خبر گیری سب کی رکھتیں اور تحفے تحائف بھیجتیں۔گھر بیٹھ کر ان کیلئے دعا گو رہتیں۔ان کی سب سے بڑی پوت بہو عقیقہ فرزانہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحبزادہ مرزا ادریس احمد صاحب بیان کرتی ہیں کہ میں اکثر یو زینب صاحبہ کے پاس جاکر ٹھہرا کرتی تو وہ میرا بہت خیال رکھتیں ہر وقت خاطریں کرتیں ، اسرار کر کے کھلاتیں پلاتیں اور اپنی طبیعت کی وجہ سے میرے پہنے ، اوڑھنے کا بھی خیال رہتا‘ا ایک باروہ اکیلی ہی اپنے میاں کے بغیر ربوہ آئی ہوئی تھیں ، کہتی ہیں کہ ” میں روزانہ خوب تیار ہو کر ان سے ملنے جاتی ، بہت خوش ہو کر ملتیں ، سراجتیں، ایک دن جب میرے میاں آنے والے تھے ، میں ملنے گئی تو سفید شلوار دو پٹہ اور پرنٹ قمیض پہنا ہوا تھا، انہیں معلوم تھا، اس دن ادریس نے آنا ہے مجھے دیکھ کر کہنے لگیں لو دیکھو ! " هورون چنگی ، تہواردن مندی یعنی آگے پیچھے تو ٹھیک تیار ہوتی ہو آج موقعہ ہے (یعنی میاں نے آنا ہے تو