حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 30
حضرت کو زینب صاحبہ 30 میں ایک خوبی یہ تھی کہ آپ کا خلافت احمدیہ پر بڑا پختہ ایمان تھا۔آپ نے چار خلافتوں کے دور دیکھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع تو آپ سے عمر اور رشتہ دونوں میں چھوٹے تھے۔لیکن آپ نے ہمیشہ انہیں اپنا روحانی آقا مانا اور ان کے ساتھ تا دم آخر اخلاص و وفا اور اطاعت کے رشتہ سے بندھی رہیں۔حضرت بُو صاحبہ نے اپنی اولاد کی تربیت بھی بھر پور انداز میں کرنے کی کوشش کی اور تربیت کا اصل پہلو آپ کا اپنا عملی نمونہ اور کردار تھا۔آپ کے ایثار، قربانیوں ،محبتوں اور تقویٰ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے اس طرح نوازا کہ آپ کی ساری اولا د آپ کی بے حد عزت اور احترام بھی کرتی اور خدمت بھی۔خاص طور پر آپ کے بڑے صاحبزادے، صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب جو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی لندن ہجرت کے بعد تاحیات امیر مقامی اور ناظر اعلیٰ کے عہدوں پر فائز رہے۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث کے خاص دوست اور مصاحب تھے۔اور خود ایک متقی بزرگ تھے۔ان کے دل میں بوصاحبہ کی خدمت کا جذ بہ بہت نمایاں تھا۔اس کی چھوٹی سی مثال سے ہی آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کا طریق تھا کہ جب بھی باہر سے آتے۔وہ دفتر ہو یا اور کوئی کام۔آپ گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے اپنی والدہ کے حصہ میں جا کر