حضرت بُو زینب صاحبہؓ

by Other Authors

Page 31 of 35

حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 31

حضرت یو زینب صاحبہ 31 انہیں سلام کرتے حال چال، کام وغیرہ پوچھتے۔کچھ دیر بیٹھ کر پھر بعد میں اپنے حصہ میں اپنے اہلِ خانہ کے پاس جاتے۔اپنی نمازوں کی حفاظت کا ہردم خیال رہتا یہاں تک کہ آخری بیماری میں جب ہسپتال داخل تھیں۔اور نیم بے ہوشی کی سی کیفیت تھی۔جب بھی ڈاکٹر دیکھنے آتے اور آپ سکون میں ہو تیں تو وہ دیکھتے کہ ہاتھ اپنے سر تک لے جاتی ہیں۔انہوں نے حیرت سے ان کی بیٹی سے پوچھا کہ یہ کیا کرتی ہیں۔تو انہوں نے بتایا کہ جب ذرا ہوش آتی ہے تو نماز شروع کر دیتی ہیں۔اس پر ڈاکٹر صاحب بہت حیران ہوئے کہ اس حالت میں بھی نماز کا خیال ہے۔مئی 1984 ء میں آپ شدید بیمار ہوگئیں۔لاہور لے جا کر آپ کو زینب میموریل ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق آپ کو انتریوں کا کینسر تھا۔مکرم ڈاکٹر وسیم احمد صاحب نے جون میں آپ کا آپریشن کیا۔لیکن اس کے باوجود آپ کی طبیعت نہ سنبھلی اور دو ماہ کی لیبی تکلیف اٹھا کر 24 اگست 1984ء بروز : 1ء بروز ہفتہ قبل از نماز مغرب آپ کی وفات ہو گئی۔اسی رات آپ کو ر بوو لے جایا گیا۔اگلے دن شام ساڑھے پانچ بجے محترم صوفی غلام احمد صاحب نے بہشتی مقبرہ کے احاطہ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد بہشتی مقبرہ کی اندرون چار دیواری میں