حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 13
حضرت کو زینب صاحبہ 13 بچوں سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔ان میں خود نمائی بالکل بھی نہ تھی کہتے ہیں نا کہ نیکی کر دریا میں ڈال، اس طرح کسی کی مدد کرو کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔وہ اس کی زندہ مثال تھیں۔اس لئے شاید ان کی مالی قربانیوں کا ذکر تاریخ میں نہیں ملتا۔سوائے ایک بار کے جب آپ نے مسجد برلن کیلئے 300 روپے چندہ دیا، کبھی اپنی کسی بھی قربانی کا کوئی ذکر نہیں کیا ، ایک بار بے حد یو چھنے پر واقعہ کے رنگ میں بتایا کہ:۔” جب ہم قادیان آئے تو میں ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتی تھی۔جس میں نہ کوئی روشن دان تھا ، اور نہ ہی کھڑکی ، ایک دروازہ جو محن میں کھلتا تھا، اور پردے کی وجہ سے صحن میں بھی نہ جاسکتی تھی ، کمرے کے اندر ایک گھر بنا ہوا تھا، اس کی نالی میں منہ دے کر سانس لیا کرتی ، کیونکہ اس نالی کے چوڑے سوراخ سے ہی ہوا آتی تھی۔حالانکہ وہ بے انتہا صفائی پسند تھیں، یعنی وہم کی حد تک ، کہتی تھیں پتہ نہیں پہلے یہ گھر اکس کس طرح سے استعمال ہوتا ہوگا پاک تھا بھی یا نہیں۔آپ ایک بہت ہی نفاست پسند خاتون تھیں۔صفائی کے معاملہ میں بے حد وہمی طبیعت پائی تھی ، پاکی ناپاکی کا بہت زیادہ خیال ہوتا تھا، وہم کی وجہ سے اپنے کھانے پینے کے برتن بھی