بیگمات حضرت سیّد محمد سرور شاہ صاحب

by Other Authors

Page 13 of 24

بیگمات حضرت سیّد محمد سرور شاہ صاحب — Page 13

بیگم سید محمد سرور شاہ صاحب 13 میں ڈالنے کی بجائے رستہ میں ہی گرا نہ دیں یا دکان پر ہی چھوڑ نہ آئیں۔محترمہ خالہ صاحبہ کی یہ احتیاط بے جانہ ہوتی تھی کیونکہ بسا اوقات ایسا ہو جاتا تھا کہ بٹواہ جیب میں ڈالنے کی بجائے گریبان میں ڈال دیتے اور وہ نیچے گر جاتا یا دکان پر ہی چھوڑ آتے تو یہ بچے وہاں سے اٹھا کر لے آتے۔سید سرور شاہ صاحب نہایت متوکل مزاج تھے تنخواہ بہت کم تھی ، گھر کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔مہتاب بیگم کو اللہ تعالیٰ نے تین بیٹیاں اور دو بیٹوں سے نوازا۔آپ کے بڑے بیٹے ناصر احمد صاحب ایک دفتر میں برائے نام کام کرتے تھے۔وہ اور ان کی بیوی بچے آپ کے ذمہ تھے۔چھوٹے بیٹے سید مبارک احمد بھی کوئی کام نہ کرتے تھے۔اُن کی فیملی بھی آپ کے ساتھ تھی۔بڑی بیٹی اہلیہ ( سیٹھ محمد سعید صاحب ) فوت ہو چکی تھیں۔ان کے دونوں بیٹے کمال یوسف اور جمال یوسف بھی آپ کے پاس تھے۔چھوٹی بیٹی سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ کی ابھی شادی نہ ہوئی تھی۔محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کثیر اخراجات کا انتظام ہو جاتا تھا اور اس معاملہ میں محترمہ خالہ جان کے حسن تدبر کا بھی بہت دخل تھا۔کیونکہ آپ کا نظم و ضبط گھر میں بڑا مؤثر اور نگرانی بڑی کڑی ہوتی تھی۔جس کی وجہ سے