بیگمات حضرت سیّد محمد سرور شاہ صاحب

by Other Authors

Page 14 of 24

بیگمات حضرت سیّد محمد سرور شاہ صاحب — Page 14

بیگم سید محمد سرور شاہ صاحب 14 گھر کا کوئی فردان کی مرضی کے خلاف نہیں چل سکتا تھا۔(9) دو آپ کے نواسے کمال یوسف صاحب مربی سلسلہ لکھتے ہیں:۔1933 ء سے 1947 ء تک کا وقت اپنی والدہ کی وفات کے بعد آپ کے زیر سایہ گزرا۔میں آپ کو اماں جی کہتا۔۔۔حضرت مولوی صاحب کے خدمات سلسلہ میں ہمہ وقت مصروف العمل رہنے کی وجہ سے گھر کے متعلق ہر کام آپ سگھڑ اور معتدل انداز اور سلیقہ سے چلاتی تھیں۔گھر کے دس بارہ افراد کے علاوہ دو چار کشمیری طلباء یتیم بچے بچیاں ، جز وقتی ملازم ، ان کی دیکھ بھال اور عیال داری آپ خود بڑے ذوق سے اور ایک ڈھنگ سے کرتی چلی آئیں۔قادیان عالمی مرکز احمدیت ہونے کی وجہ سے ہر گھر میں مہمانوں کا آنا جانا اور پڑوسیوں کا آنا مزید گھر کی رونق بڑھانا۔تعلیم واجبی تھی ، اردو لکھ لیتی تھیں۔سلسلہ کے لٹریچر کے علاوہ حضرت قاضی اکمل صاحب کا گھر آپ کے گھر کے نزدیک تھا۔ان کے گھر ہندوستان بھر سے آنے والے رسائل آپ کے مطالعہ میں رہتے۔اماں جی گھر سے باہر کم نکلتیں ، آخر عمر تک باپردہ گھر سے جائیں ، اگر جانا ہوتا تو ٹوپی والا برقعہ پہن کر جاتیں صحت ماشاء اللہ آخر وقت تک ایسی رہی جیسے بڑھا پا انتظار میں تھک گیا ہو، بڑی عمر میں سر کے بالوں میں