بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 23
عظیم دین اور اس کی قدروں کی پاسبان آپ بنائی گئی ہیں۔اگر آپ نے ہی پیٹھ پھیر لی تو پھر کون ان اقدار کی حفاظت کرے گا ؟ ابتدائے اسلام میں ایسی ایسی خواتین تھیں جو پو را پر دو کرتی تھیں باوجود اس کے کہ جب سوسائٹی پاک ہو گئی تو اجازت تھی کہ چہرے کا سامنے کا حصہ کھلا رکھ لیا جائے۔جب سوسائٹی میں گند تھا تو پردے میں زیادہ سختی تھی۔جیسا کہ آجکل پسماندہ ممالک میں گند ہے۔نظریں اتنی گندی ہو چکی ہیں اور ایسی بُری عادت پڑ چکی ہے کہ یوں لگتا ہے نقاب پھاڑ کر بھی پہنچنے کی کوشش ہو رہی ہے۔یہاں وہی ابتدائے اسلام والا پردہ کام کرے گا اور جہاں سوسائیٹیوں میں ایسی حالت نہیں ہے وہاں پر دے کا دوسرا حکم اطلاق پائے گا۔ابتدائے اسلام میں امہات المومنین اور دوسری بہت سی خواتین تھیں جو پردہ کا اہتمام کرتے ہوئے جنگوں میں بھی حصہ لیتی رہیں۔جنگِ اُحد میں شامل ہوئیں۔اسی طرح دوسری جنگوں میں حصہ لیا اور بڑی بڑی خدمات سرانجام دیں۔حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ آپنے سُنا ہوا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ رومیوں کے ساتھ ایک معرکہ درپیش تھا جس میں رومیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ خطرہ تھا مسلمانوں کے پاؤں نہ اُکھڑ جائیں۔لڑائی کے دوران مسلمانوں نے ایک نقاب پوش زرہ بکتر بند سوار کو اس حالت میں دیکھا کہ وہ پلٹ پلٹ کر دشمن کی فوج پر حملہ کر رہا ہے اور جدھر جاتا ہے گشتوں کے پشتے لگا دیتا ہے۔صفوں کو چیرتا ہوا کبھی اُدھر نکل جاتا ہے اور کبھی ادھر آ جاتا ہے۔اس کو دیکھ کر مسلمان لشکر نے آپس میں باتیں شروع کیں کہ یہ تو ہمارے سردار حضرت خالد بن ولید کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔23