بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 24
وو سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کے سوا کس کی طاقت ہے کہ اس شان کے حملے کرے۔اتنے میں انہوں نے حضرت خالد بن ولید کو آتے دیکھا۔بڑے متعجب ہوئے اور اُن سے کہا اے سردار! یہ سوار کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے بھی اس کا پتہ نہیں۔میں تو اس قسم کے جری اور بہادر سوار کو پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں۔اسی اثنا میں وہ سوار اس حال میں واپس لوٹا کہ خون سے لت پت تھا اور اسکا گھوڑا بھی پسینے میں شرابور اور دم توڑنے کے قریب تھا۔وہ گھوڑے سے اترا تو خالد بن ولید آگے بڑھے اور کہا اے اسلام کے مجاہد ! بتا تو کون ہے؟ ہماری نظریں تجھے دیکھنے کو ترس رہی ہیں۔اپنے چہرے سے نقاب اتار لیکن اس نے کوئی توجہ نہ کی۔نہ زرہ اتاری، نہ پردہ اتارا۔خالد بن ولید حیران ہوئے کہ اتنا بڑا مجاہد اور اطاعت کا یہ حال ہے؟ انہوں نے پھر کہا کہ اے جوان ! ہم تجھے دیکھنے کے لئے ترس رہے ہیں۔اپنے چہرے سے پردہ اتار۔اِس پر اُس سوار نے کہا اے آقا! میں نافرمان نہیں ہوں۔مگر مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ تو نے پردہ نہیں اُتارنا۔میں ایک عورت ہوں اور میرا نام خولہ ہے۔بہر حال انہوں نے پردہ نہیں اُتارا۔فیوض الاسلام، ترجمه فتوح الشام صفحه : ۹۸ تا ۱۰۱) بعض عورتیں کہتی ہیں کہ گرمی بہت ہے۔ہم کس طرح برقع میں باہر نکل سکتی ہیں۔مردوں کو کیا فرق پڑتا ہے۔جس طرح چاہیں باہر نکل جائیں۔حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔مجھے اپنا تجربہ ہے کہ گرمیوں میں جبکہ شدید گرمی پڑ رہی ہوتی ہے۔ہمیں باہر جانا پڑتا ہے۔خصوصاً دیہاتی علاقوں میں جہاں چھوٹی دیواروں اور نیچی چھت والی مسجد میں ہوتی ہیں۔اچکن کے بٹن اور پر تک بند کرنے پڑتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ آدمی بھاپ کے اندر پکایا جارہا ہے۔عادت نہیں ہے لیکن پھر بھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔مجبوریاں ہیں۔24