بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 12
کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے لئے زیادہ مصیبت مول لیتی ہیں۔اگر کوئی عورت واقعہ پوری طرح پردہ کرنا چاہے تو چادر کی نسبت برقع کا استعمال آسان ہے۔چادر تو ڈھلکتی ہے اس کو سنبھالنا پڑتا ہے۔گھونگھٹ کھینچنا پڑتا ہے اور کئی قسم کی وقتیں ساتھ لگی ہوئی ہیں۔الغرض چادر کے ساتھ عورت بڑی مشکل سے اپنے پردے کی حفاظت کرتی ہے۔برقع تو ایک آسان طریق تھا۔پس اگر ماڈرن سوسائٹی کے اثرات یا اسکی باتوں سے متاثر ہوئے بغیر بعض علاقوں کی عورتیں اپنے رواج کے پیش نظر چادر کا پردہ کرتی ہیں تو جماعت کا کام ہے کہ اس چیز کی نگرانی کرے۔ہم انشاء اللہ تعالی تحقیق کریں گے اور جماعتی نظام کے تابع ان کو اجازت دی جائے۔لیکن اسی حد تک جس حد تک ان کا پردہ اسلامی ہے۔اگر خطرہ محسوس ہوا کہ وہی چادر میں ان کی بچیاں غلط طور پر استعمال کرنے لگی ہیں اور نئی سوسائٹی میں آکر اس کے بداثرات ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں تو اس کے استعمال سے بھی روک دیا جائے گا۔جہاں تک سٹیج ٹکٹ کا تعلق ہے ممکن ہے بعض ایسی عورتوں کو بھی یہ نہ ملا ہو جو اس کا حق رکھتی ہیں اور ان کے دلوں میں شکوہ پیدا ہوا ہو۔جہاں تک اس کے رد عمل کا تعلق ہے اس سلسلے میں بڑی دلچسپ رپورٹیں آئی ہیں۔وہ میں آپ کو سُنانا چاہتا ہوں۔ایک ہماری باجی جان ہیں۔پردے کے معاملے میں شروع سے ہی انکار جهان سختی کی طرف رہا ہے۔کیونکہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تربیت میں جو پہلی نسل آئی یہ ان میں سے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو جو پردہ کراتے دیکھا اور جس طرح اپنی بچیوں کو پردے کی پابندی کے ساتھ باہر بھیجتے دیکھا، وہ ان کی فطرت میں ایسا رچ چکا ہے کہ اس عادت سے وہ ہٹ ہی نہیں سکتیں۔ان کے متعلق ہماری بعض بچیوں کا خیال 12