بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 13
ہے کہ یہ اگلے وقتوں کے لوگ ہیں۔انہیں کچھ نہ کہو۔ایسی باتیں کیا ہی کرتے ہیں لیکن اگلے وقت کون سے تھے ؟ میں تو اُن اگلے وقتوں کو جانتا ہوں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہیں۔اس لئے اگر اُن کے وقت کو اگلے اور پرانے وقت سمجھ کر کسی نے کچھ کہنا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔وہ جانے اور اس کا خدا جانے۔یہ انکا اپنا معاملہ ہے۔بہر حال میری یہ بہن واقعہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے پردے کے معاملہ میں سختی کرتی ہیں۔چنانچہ اس دفعہ سٹیج کے ٹکٹوں خصوصاً ایک حلقہ کے ٹکٹوں کی ذمہ داری ان پر عائد کی گئی۔نظارت اصلاح وارشاد نے جہاں اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا اور میں نے اس کی جواب طلبی کی ہے۔وہاں انہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا اور ٹکٹ جاری ہو جانے کے با وجود روک دیئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو ہر طرف سے طعن و تشنیع کے فون آنے شروع ہوئے۔ان پر سختی کی گئی بعض والدین نے بُرا بھلا بھی کہا اور بعض بچیوں نے فون کئے کہ آپنے یہ کیا قصہ چلایا ہوا ہے چنانچہ میری بیوی کے پاس اسی قسم کی ایک بچی آئی اور کہنے لگی کہ یہ معاملہ چلے گا نہیں چلا کر دیکھ لیں۔پھر ہماری ایک بچی کے پاس چند لڑکیاں آئیں اور اسی سلسلے میں گفتگو ہونے لگی انہوں نے کہا تم تو پردہ بھی کرتی ہو اور گھر سے باہر بھی نہیں نکلتی اس لئے تمہیں سٹیج کا نہیں صدارت کا ٹکٹ ملنا چاہئے۔غرضیکہ اپنے دل کے جتنے بھی دُکھ تھے جس طرح بھی بس چلا وہ انہوں نے دوسروں کے دلوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔جب عورت چر کہ لگاتی ہے تو یہی مطلب ہوتا ہے کہ میرے دل کا دُکھ میرے دل میں کیوں رہے۔میں اپنے دل کا دُکھ تمہارے دل میں منتقل کرتی ہوں اور خود چھٹی کر جاتی ہوں۔اب تم جانو اور جو مرضی چاہے کرو۔جب یہ ساری باتیں مجھ تک پہنچیں تو میں نے اپنی باجی جان سے کہا کہ آپ کیوں 13