بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 11
دے۔ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔صرف تقویٰ معیار ہے جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:- إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ۔(الحجرات : ۱۴) ہم نے تمہیں شعوب اور قبائل بنایا اور مختلف تقسیمیں کیں۔لیکن خبر دار ! جو تم نے ان چیزوں کو ذریعہ عزت بنایا۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک متقی کے سوا کوئی عزت کے لائق نہیں ہے۔پس اگر جماعت تقویٰ کے معیار کی حفاظت نہیں کرے گی تو کسی بھی قدر کی حفاظت نہیں ہو سکے گی۔تقویٰ تو مومن کی بنیاد ہے۔یہ تو اسلام کی جڑ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے * اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے یہ بہار جو اسلام کے چہرے پر آتی ہے یہ تقویٰ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔یہ تقویٰ کی جڑیں ہیں جو زمین میں پھوٹتی ہیں اور پھر آسمانی کیفیتوں میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہیں۔اس لئے تقویٰ کا پہلو یہ ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ایسے مواقع پر کچھ بے احتیاطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔مثلاً بعض ایسے علاقے ہیں جہاں برقع رائج نہیں ہے بلکہ چادر رائج ہے۔اور بعض ایسی مستورات ہیں جو چادر کی نسبت برقع سے اپنی زیادہ حفاظت کر لیتی ہیں۔تو یہ جماعت کا کام ہے کہ وہ ان باتوں کی نگرانی کرے اور دیکھے کہ وہ کون سے علاقے ہیں اور معلوم کیا جائے کہ جو عورتیں چادر لے رہی ہیں ان کا طریق کار کیا ہے؟ کیا وہ فیشن کی غلام ہیں یا واقعہ ضرورت کے ماتحت ایسا کر رہی ہیں اور مجبور ہیں اور پوری طرح اپنی حفاظت کرتی ہیں۔پھر اگر وہ چادر لیتی ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ایسی مستورات کے متعلق اگر جماعت کا نظام فیصلہ 11