بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 25

پس یہ بات تو نہیں ہے کہ مردوں کو کبھی ایسی تکلیفوں کا سامنانہیں کرنا پڑتا۔وہ بھی اس قسم کی تکالیف سے دوچار ہوتے ہیں۔اب میں آپ کو پُرانے زمانے یعنی ابتدائے اسلام کی ایک اور مسلمان خاتون کا واقعہ بھی سُنا تا ہوں۔آپ کو تو برقع میں بھی گرمی لگتی ہے۔لیکن ان کا حال سنیئے۔حضرت سمیہ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں تو انکو اس جرم کی سزا میں اور ارتداد پر مجبور کرنے کے لئے پورا زرہ بکتر پہنا کر دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر کھڑا کر دیا جاتا تھا۔(یہاں تو درجہ حرارت ۱۲۰ تک ہی پہنچتا ہے۔عرب میں ۱۴۰ تک بھی پہنچ جاتا ہے ) اسکی وجہ سے ان کے حواس مختل ہو جایا کرتے تھے۔روایتوں میں آتا ہے کہ اس حال میں جب ان سے کچھ پوچھا جاتا تھا تو ان کو بات ہی سمجھ نہیں آتی تھی یعنی هدت گرمی اور تکلیف سے وہ اس قدر حواس باختہ ہو چکی ہوتی تھیں۔پھر ایذا دینے والے اوپر کی طرف اُنگلی اٹھاتے تھے۔تب وہ سمجھتیں کہ یہ کہتے ہیں خدا کا انکار کر دو۔بات کرنے کی تو ان میں طاقت نہیں ہوتی تھی۔اس لئے سر ہلا دیا کرتی تھیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ایسی بھی پردہ دار مستورات اسلام میں گزری ہیں۔اسی طرح حضرت ام عمار (ام عمار کا نام حضرت سمیہ تھا جن کا واقعہ او پر گزر چکا ہے ) ہی کے متعلق آتا ہے کہ آپ کے ساتھ دشمن یہ سلوک کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا۔اس وقت انہیں تکلیف دی جارہی تھی اور حالت ی تھی کہ انکا بیٹا بھی یہ نظارہ کر رہا تھا اور ان کا خاوند بھی اس کیفیت کو دیکھ رہا تھا۔لیکن کچھ پیش نہیں جاتی تھی۔آنحضور نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا اے عمار صبر کرو۔اَے اُمّ عمار صبر کرو۔اور اے ام عمار کے خاوند تم بھی صبر کرو۔کیونکہ خدا صبر کرنے والوں کے اجر کو کبھی 25