بیت بازی — Page 4
الف نے در شمین اگر ر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دلم میں تولے شرکت نہیں ہے تمہارے اک کرشمہ اپنی قدرت کا دکھا! مجھ کو سب قدرت ہے اے رب انوری اور دنیوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم۔آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے تو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ ولایا تم نے اس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لا جرم غیروں سے دل اپنا چھڑا یا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے کلام محمود اپنا چہرہ نہیں دکھلائے وہ رب العزت مدتوں سے ہے یہی دل میں تمنا ہم کو آدمی کیا ہے تواضع کی عادت ہو جسے سخت لگتا ہے بُرار کبر کا پہلا ہم کو نہ اک دفعہ دیکھ چکے موسیٰ تو پردہ کیسا ان سے کہہ دو کہ اب چہرے کو عریاں آنکھوں میں رسی نہ جب بصارت دیدار رخ نگار کیوں ہو ! احمدی لوگ ہیں دنیا کی نگاہوں میں ڈیل ان کی عزت کو بڑھائیں انہیں اونچا کر دیں اپنی اس عمر کو اک نعمت عظمیٰ سمجھو بعد میں تاکہ تمہیں شکوہ ایام نہ ہو كلام طاهر اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی جو نور کی ہر مشکل ظلمات پر دار آئی آنکھ اپنی ہی ترے عشق میں مہکاتی ہے دہ ہو جس کا کوئی مول نہیں۔آج کی رات اک میں ہی تو ہوں یارب جدید تر دام اس کا دل کام ہے گن اس کے لب بنتے ہیں تاہم اس کا ا شاه مکی و مدنی سید انورای مجھا مجھے عزیز نہیں کوئی دوسرا آزاد تیرا فیض زمانے کی قید سے بر سے ہے شرق و غرب پر یکساں ترا گرینم