بیت بازی

by Other Authors

Page 34 of 52

بیت بازی — Page 34

۳۴ در ثمين ق قرآن خدا نما ہے خدا کا کلام ہے ہے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے قوم کے لوگو ادھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادی ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار قدرت نہیں ہے جس میں وہ خاک کا ہے ایشر کیا دین حق کے آگے زور آزما ہی ہے قوم میں فسق و فجور و معصیت کا زور ہے چھا رہا ہے ابر یاس اور رات ہے تاریک تار قصوں سے کب سنجات ملے ہے گناہ سے ممکن نہیں وصال خدا ایسی راہ سے قصوں سے پاک ہونا کبھی کیا مجال ہے سچ جانو یہ طریق سراسر محال ہے قصوں کا یہ اثر ہے کہ دل پُر فساد ہے ایماں زباں پسینہ میں حق سے عناد ہے قرباں ہیں تجھ پہ سارے جو ہیں مرے پیارے احساں ہیں تیرے بھلے گن گن کے ہم تو ہارے کلام محمود قطب کا کام کرو تم ظلمت و تاریکی میں بھولے بھٹکوں کے لئے راہ نما بن جاؤ! قلوب صافیہ ہوتے ہیں مہبطِ انوار کبھی بھی دیکھی ہے رنج و ملال میں برکت قیامت ہے کہ وصال یار میں بھی رنج فرقت ہے میں اس کے پاس رہ کر بھی ہمیشہ دور رہتا ہوں قید و بند حرص میں گردن پھنسائی آپ نے اس حماقت پر ہے دعوی فاعل مختار کا قید کافی ہے فقط اُس حسن عالمگیر کی تیرے عاشق کو بھلا حاجت ہی کیا زنجیر کی كلام طاهر قبل بھی تو ہے قبلہ نما بھی تیرا وجود شان خدا ہے تیری اداؤں میں جلوہ گر قسمت کو دیکھئے کہ کہاں ٹوٹی جا کنند حلوہ قریب دہن ہی آیا تھا ، گر گیا قریہ قریہ فساد ہوئے تب فتنہ کہ آزاد ہوئے سب احمدیوں کو بستی بستی پکڑ دھکڑا ، مارا ٹوٹا قافلے درد کے پا جاتے ہیں منزل کا سراغ اک لرزتی ہوئی کو دیکھ کے دریانوں میں قفس کے شیروں سے کرتے ہو روز دو دو ہاتھ دو آنکھیں بن کے بہر سے بھی چار کہ دیکھو