بیت بازی — Page 33
۲۲ فضل سے تیرے جماعت تو ہوئی ہے تیار حزب شیطاں کہیں رخنہ نہ ڈالے پیارے فرش سے جا کر لیا دم عرش پر مصطفے کی سیر روحانی تو دیکھ فلسفہ بھی راز قدرت بھی روز عشق بھی کیا نرالا ڈھنگ ہے پیارے تیری گفتار کا كلام طاهر فطرت میں نہیں تیری غلامی کے سوا کچھ نوکر ہیں ازل سے تیرے چاکر ہیں سدا کے فاتحہ کے لئے ہم جائیں تو یہ نہ ہو کہیں ہم سے شکوہ کریں وہ قبریں کے اب کیوں آئے در عدن فانی تمام ناز ہیں باقی ہے اس کا ناز جس کو بقا پر ناز ہے وحدت پہ ناز ہے فرش سے عرش پہ پہنچی ہیں صدائیں میری مید اللہ نے سن لی ہیں دُعائیں میری فضا ہے جس کی معطر نفوس عیسی اُسی مقام فلک آستاں میں رہتے ہو فرشتے ناز کریں جس کی پہرہ داری یہ کہ ہم اس سے دور ہیں تم اس مکان میں رہتے ہو به بخار دل فردوس کی غیرت ہے خداوند کو اپنی دنیا میں ہی پس جائے گا جو نقل کرے گا فراق کو چہ جاناں نے کر دیا افسوس جلا جلا کے میرے دل کو ایک انگارا فراق یار کے ان دل جلوں کو وصال یار بن کیونکر ہو سکیں