بیت بازی

by Other Authors

Page 35 of 52

بیت بازی — Page 35

۳۵ دي عدن قابل رشک ہے اس خاک کے پتلے کا نصیب جس کی قسمت میں ہو خاک در جاناں ہوتا قوم احمد جاگ تو بھی جاگ اس کے واسطے ان گنت راتیں جو تیرے درد سے سویا نہیں قدم مسیح کے جس کو بنا چکے ہیں حرم تم اس زمین کرامت نشاں میں رہتے ہو بخار دل قطره اشک کے بدلے مئے جام الفت واہ کیا کہنے کہ کیا لیتے تھے کیا دیتے تھے قوت نہیں یہ روح کے انوار کی طاقت ہے سب انسان کے اعصاب کی قدم قدم پہ ترقی ہو رب زدنی میں علوم و معرفت بے مثال میں برکت در ثمين کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و پاس وہ زباں لاؤں کہاں سے میں سے ہو یہ کاروبار کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف وکرم ہے بار بار کیا کروں کیونکر کروں میں اپنی جاں زیر وزیر کس طرح میری طرف دیکھیں جو رکھتے ہیں نظار کیا وہ سارے مرحلے طے کر چکے تھے علم کے کیا نہ تھی آنکھوں کے آگے کوئی رہ تاریک و تار کچھ خبر لے تیرے کوچے میں یہ کس کا شور ہے خاک میں ہوگا یہ سر گر تو نہ آیا بن کے یار کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مراد یہ تو تیرے پر نہیں امیداے میرے حصار کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کہ مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا مہرومہ کی آنکھ نم سے ہو گئی تاریک و تار غم کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی کہ کیسے سوگئے کس قدر ہے حق سے نفرت اور ناحق سے پیار