بیت بازی — Page 32
۳۲ خنا نے اس کی جو عرفان بندگی بخشا نہیں تھا وہ کسی بود و عطا سے کم اعجاز غم دے کے کیسے فکر مریض شب غم ہے یہ کون ہے جو ہند میں رس گھول رہا ہے بخار دل غفلتوں اور گناہوں کی عمارت مہر روز ہم بناتے تھے مگر آپ گرا دیتے تھے: فريق بحر محبت تھا پر ہزار افسوس ہوا سراب جہاں میں خراب و آواره غرض یہ ہیں اجابت کے طریقے قبولیت کے ہیں سب کارخانے در شمين ن فضل سے اپنے بچا مجھ کو ہر اک ایسے صدق سے ہم نے لیا ہاتھ میں داماں تیرا فکروں سے دل ترین ہے جہاں دور سے ترین ہے جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے فطرت ہر اک بشر کی کرتی ہے اس سے نفرت پھر آریوں کے دل میں کیونکر بسا ہی ہے فطرت کے ہیں درندے مردار ہیں نہ زندے ہر دم زباں کے گندے قہر خدا ہی ہے فانیوں کی جاہ و حشمت پر بلا آوے ہزار سلطنت تیری ہے جو رہتی ہے دائم بر قرار فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جانکنی ہے عاشق جہاں پہ مرتے وہ کربلا ہی ہے فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کہ میری مدد کسی اسلام نا ہو جائے اس طوفاں سے پار تا کلام محمود فراق جاناں نے دل کو دوزخ بنا دیا ہے جلا جلا کر یہ آگ بجھتی نہیں ہے مجھ سے میں تھک گیا ہوں کچھا کچھ کہ بجھا کر خدا سمجھ پر مسیحا میری جاں ہے! کہ تو ہم بے کسوں کا پاسباں ہے فتح تیرے لئے مقدر ہے تیری تائید میں ہے رب عباد