بیت بازی

by Other Authors

Page 31 of 52

بیت بازی — Page 31

غ ہے در همين غل قل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجال ہے پاک کو ناپاک دیکھے ہو گئے مردار خوار تعریقوں کو کرے ایک دم میں تو پار جو ہو نومید تجھ سے ہے وہ مردار غموں کا ایک دن اور چار شادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخَذَى أَلا عَادِي عرض بوش الفت سے مجذوب دار یہ نانک نے چولہ بنایا شعار ! غور کر کے اسے پڑھو پیارو یہ خدا کے لئے نصیحت غیر کیا جانے کہ دیر سے ہیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اُس کے ہوئے ہم جانثار غفلت پہ غافلوں کی روتے رہے ہیں مرسل پر اس زماں میں لوگو نوحہ نیا نہیں ہے غرض اس نے پہنا وہ فرخ لباس رکھنا تھا مخلوق سے کچھ ہراس غرض یہ تھی تا یار خورسند ہو خطا دور ہو پختہ پیوند ہو! غیروں سے کرنا الفت کب چاہے اسکی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَراني غیر ممکن ہے کہ تدبیر سے پاؤں یہ مراد بات جب بنتی ہے جب سارا ہو ساماں تیرا غیر ہو کر غیر پر مرنا کسی کو کیا غرض کون دیوانہ بنے اس راہ میں لیل و نہار کلام محمود غیر کیوں آگاہ ہو راز محبت سے مرے دشمنوں کو کیا بستہ ہو میرے تیرے پیار کا غیر کی نصرت و تائید سے ہو مستغنی اور پھر صاحب اجناد و کتائب بھی ہو تم غیر بھی بیٹھے ہیں اپنے بھی ہیں گھیرا ڈالے مجھ میں اور تجھے میں وہ خلوت ہے کہ جاتی ہی نہیں غضب ہے کر یوں شرک دنیا میں پھیلے مرا سینہ جاتا ہے دل پھینک رہا ہے غضب ہے شاہ بلائے غلام منہ موڑے تم ہے چپ رہے یہ وہ کہے مجیب ہوں میں کلام طاهر غیر تسلیم کیے کہتے ہیں۔اُسے دکھلائے ایک اک سالکین ربوہ کی جبیں آج کی رات م فرقت میں کبھی اتنا رلانے والے کبھی دل داری کے مجھولوں میں جھلانے والے