بیت بازی — Page 24
۲۴ در ثمين ش شان حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو بابا ہم نے پایا ہم شکر اللہ مل گیا ہم کو وہ لعل بے بدل کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھری ہے بتا ہے یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يَرَانِي یه که شریروں پر پڑے ان کے شرارے نہ اُن سے رُک کے مقصد ہمارے شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں ان کی ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا رہی ہے شکر خدائے رحماں میں نے دیا ہے قرآن نیچے تھے سارے پہلے اب گل کھلا نہیں ہے شادابی و لطافت اس دیں کی کیا کہوں میں سب خشک ہو گئے ہیں پھولا پھلا یہی ہے شاید تمہاری فہم کا ہی کچھ قصور ہو شاید وہ آزمائش رب غفور ہو شرط تقومی تھی کہ وہ کرتے نظر اس وقت پر شرط یہ بھی تھی کہ کرتے صبر کچھ دن اور قرار شیطاں سے دور رکھیو اپنے حضور رکھیو جاں پُر زنور رکھیو دل پرسرور رکھیں شریف احمد کو بھی یہ پھل کھلایا کہ ان کو تو نے خود فرقاں سکھایا كلام محمود شکوہ کا کیا سوال ہے اُن کا عتاب بھی ہے ہر منہ سے میں داد خواہ تھا دل میں میں شرمسار تھا شاگرد نے جو پایا اُستاد کی دولت ہے احمد کو محمد سے تم کیسے جُدا مجھے شیطاں ہے ایک عرصہ سے دنیا پر حکمران اٹھو اور اُٹھ کے خاک میں اس کو نہاں کرو شیطاں سے جنگ کرتے ہیں جاں تک لڑاؤں گا یہ عہد ذات باری سے اب کرچکا ہوں میں شان و شوکت کو تری دیکھ کے حاد و شریر خون دل پیتے ہیں اور کھاتے ہیں وہ غصہ و غم کلام طاهر شهر جنت کے ملا کرتے تھے طعنے جس کو بن گیا واقعت خلد بریں آج کی رات شیریں بول ، انفاس مظہر نیک خصائل و پاک شمائل حاصل فرقان - عالم و عامل علم وعمل دونوں میں کامل شام غم ، دل پر شفق رنگ ، دکھی زخموں کے تم نے جو پھول کھلائے مجھے پیارے ہیں وہی