بیت بازی — Page 25
در عدن شان تیری گمان سے بڑھ کر حُسن و احسان میں نظیر عدیم بخار دل شکر تیری نعمتوں کا کیوں کہ ہو ہو گئی اس بوجھ سے کمر دوسری شرک اسباب ترک کر اے یار سب سے مخفی ہی نجاست ہے شکل کو دیکھ کر نہ بننا تم وہ تو اللہ میاں کی صنعت ہے در ثمین صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشان کافی ہے مگر دل میں ہے خوف کردگار صبر کی طاقت ہوتی مجھ میں دہ پائیے اب نہیں میرے دلبر اب دکھا اس دل کے بہلانے کے دن صف دشمن کو کیا ہم نے بجت پامال سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے صد بہاریں آفتیں نازل ہوئیں اسلام پر ہو گئے شیطان کے چیلے گردن دیں پر سوار صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ تَرَانِي کلام محمود صحبت عیش و طرب اس کو نہیں ہوتی نصیب درد د غم رنج والم یاس ونطق سے ہے دو چار صفحہ دل سے مٹایا کیوں مجھے احباب نے کیوں مرے دشمن ہوئے کیوں مجھ سے ہے کین و نقار صبر کر اے ناقه راه بدی ہمت نہ ہار دور کر دے گی اندھیروں کو ضیائے قادیاں صبح کو خوف کہ ہو آج کا کیسا انجام رات دن کاٹتے اس طرح سے تھے وہ ناکام کلام طاهر صبح صادق پر صدیقوں کا ایسان نہیں ڈولا اندھی رات کے گھپ اندھیروں نے بہی کی ساری رات مبر کا درس ہو چکا۔اب ذرا حال دل سنا کہتے ہیں تجھ کو نا ھیجا۔چین نہ ایک پل پڑے