بیت بازی — Page 23
۲۳ سرنگوں ہو جائیں گے دُشمن تمہارے سامنے ملیتی ہوں گے برائے عفو وہ با حال زار سچ ہے کہ فرق دوزخ و جنت میں ہے خفیف پائی نجات دام سے ایک دانہ چھوڑ کر ساتھی بڑھیں گے تب کہ بڑھاؤ گے دوستی دل غیر کا بھی تم کو کلبھاتا ہی چاہیئے کلام طاهر سازندہ تھا یہ ، اس کے سب ساتھی تھے میت اس کے دھن اس کی تھی گیت اس کے لب اس کے پیام اس کا سب جو تیرا ہے لاکھ ہو میرا تو جو میرا ہے تو بات بنے سادہ باتوں کا بھی ملا نہ جواب سب سوالات منظمات بنے سریندی کر دی پریم کی آشاؤں کو دھیرے دھیرے مدد بھرے کریں مدھر گیت سنانے والے سُن رہا ہوں قدم مایک تقدیر کی چاپ آرہے ہیں میری بگڑی کے بنانے والے حية عدن سب سے افضل تھے مگر اصحاب ختم المرسلیں خلق میں کامل نمونہ عشق کے کردار کا سامان معیشت بھی کرنا پھر جیتے جی اس پر کرنا حق نفس کا بھی کرتے ہیں ادا بیج الفت کے بھی ہوتے ہیں بخار دل سالک راہ محبت سے یہ ممکن ہی نہیں جان دینے سے ڈرے عاشق جاناں ہو کر نگ ساری نے کیا حُسن دو بالا تیرا خوب تر ہو گئی یہ زلف پریشاں ہو کر سرخ رو دونوں جہانوں میں ہوئے تم دالله داخل میکدہ بزم شہیداں ہو کر 3