برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 8 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 8

۔۔۔۔اره دور مووی به بیانی را نہیں۔صرف وہ قلعے باقی رہنے دیئے گئے جو دفاعی لحاظ سے کمپنی کی سپاہ کے لئے ضروری تھے۔لوگوں سے ہتھیار لے لئے گئے اور آئیندہ اسلحہ رکھنے کے لئے اجازت نامہ ( لائسنس) ضروری قرار دیا گیا۔گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے پنجاب کے نظم ونسق پر خاص توجہ دی۔ایک انتظامی بورڈ قائم کیا گیا جس میں سول سروس کے تین لائق انگریز افسروں ( ہنری لارنس ، جان لارنس چارلس مینسل ) کو شامل کیا گیا اور ان کے ذمے علی الترتیب ، سیاسی ، مالی اور عدالتی ، امور کئے گئے۔بورڈ کے تحت پنجاب و سرحد کو سات کمشنریوں اور ستائیس اضلاع میں تقسیم کر کے یہاں انگریز کمشنر اور ڈپٹی کمشنر مقرر کئے گئے جن کے ماتحت یورپین اسسٹنٹ کمشنر اور اور دیتی ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر مقرر کئے گئے۔پھر اضلاع کو تحصیلوں اور ذیلوں میں تقسیم کر کے مالیہ کی فراہمی اور اراضی کا بندوبست کیا گیا۔نیز پولیس کے حلقے (تھانے ) قائم کر کے جرائم کے انسداد پر توجہ کی گئی۔تین سال کے قلیل عرصہ میں ان اصلاحات کے خاطر خواہ نتائج برامد ہوئے اور اس خطے کی زندگی معمول پر آگئی۔مارچ ۱۸۵۲ء میں انتظامی بورڈ نے لارڈ ڈلہوزی کو رپورٹ بھیجتے ہوئے عام صورت حال کے بارے میں لکھا: + All violant crimes have been repressed, all gangs of murderers and robbers have been broken up, and the ringleaders brought to justice۔In no part of India is there now more perfect peace than in the territories lately annexed۔" : پنجاب کی اس وقت کی صورت حال کا یہ نقشہ بالکل صحیح ہے۔۱۸۵۳ء میں انتظامی بورڈ موقوف کر دیا اور پنجاب میں چیف کمشتری قائم کر کے سر جان لارنس کو یہاں کا پہلا چیف کمشنر مقرر کیا گیا۔اس کے ماتحت ایک فنانشل کمشنر اور ایک جوڈیشل کمشنر مقرر ہوئے۔سات آٹھ سال کے عرصہ میں پنجاب میں نظم ونسق قائم کرنے کے علاوہ تعمیر و ترقی کے بہت سے A wwwwwwwwwww۔۔۔سسيلسسلسيه کاموں کا آغاز و انصرام ہوا۔مغل دور کی قدیم نہر بنسلی ( جو سکھ دور میں معدوم ہو گئی تھی ) کے نقش قدم پر دریائے راوی سے مادھو پور کے مقام سے نہر باری دوآب کی کھدائی کا کام ۱۸۵۱ء میں شروع ہوا ، اور اس نہر میں ۱۸۵۹ء میں پانی چھوڑا گیا۔۱۸۵۹ ء ہی میں لاہور اور امرتسر کے درمیان اولین ریلوے لائن بھی بچھائی گئی۔شاہراہوں کی تعمیر کا سلسلہ بھی اسی زمانے میں شروع ہوا۔سب سے پہلے قدیم جرنیلی سڑک کے نقش قدم پر پشاور سے لاہور تک سڑک بنائی لا گئی اور پھر اسے دوسرے حصوں سے ملا دیا گیا۔صوبے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں مدرسے ، شفا خانے ، ڈاک خانے قائم کئے گئے۔جرائم کے انسداد کے لئے پولیس اور ملٹری پولیس (فرسٹر فورس ) قائم کی گئیں۔مال گزاری کا بندوبست کرنے کے علاوہ پنجاب کے رسم ورواج اور مختلف مذاہب کے مطابق مجموعہ قوانین دیوانی منضبط کیا گیا۔ان تعمیری کاموں کی وجہ سے پنجاب کے شہری و دیہاتی زندگی میں طویل عرصہ کی بد انتظامی اور انتشار کے بعد سکون و اطمینان پیدا ہوا۔نہ صرف مسلمانوں کو سکھوں کے جور و استبداد سے نجات ملی بلکہ خود ہندوؤں اور سکھوں کو بھی پُر امن حالات میں اپنے اپنے پیشوں میں کام کرنے کا موقعہ ملا۔اس ! امر کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ سکھ قوم جو چند برس پہلے پنجاب کی مالک و مختار تھی اور صرف دو تین سال قبل چیلیانوالہ اور گجرات کے خونریز معرکوں میں انگریزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے خاک و خون میں لوئی تھی ، نئے نظام سے اتنی مانوس و مطمئن ہو گئی کہ الحاق کے تین سال بعد (۱۸۵۲ء میں برما کی دوسری لڑائی میں اور پھر ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے دوش بدوش جنگ آزادی کے سپاہیوں کے خلاف معرکہ آرا ہوئی۔خصوصاً ۱۸۵۷ء کے معرکہء انقلاب میں تو پنجاب انگریزوں کے لئے نہ صرف ایک محفوظ قلعہ ثابت ہوا بلکہ اس نازک موقع پر ان کے جنگی اقدامات کے لئے محد و معاون بنا۔۔۔۔3 کی سمجھ ) پنجاب تحقیق کی روشنی میں از ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار صفحه ۲۶۵ تا۲۷۰ پبلشر سنگ میل پبلی کیشنز لا ہور اشاعت 1991ء ) i