برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 7 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 7

کوشش کی اور نہ کوٹ راہیرہ ہی میں سکھوں کو عبرتناک شکست دینے کے بعد پنجاب کے نظم ونسق کو بہتر بنانے کی فکر کی۔حریفوں کو خاک و خون میں ملانے اور مال غنیمت سمیٹنے کے بعد ہر بار اس نے کابل کا رخ کیا اور اسی روایت پر اس کے جانشین عمل پیرا ر ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ پنجاب پر عملاً جنگجو اور تند خو سکھوں کا قبضہ ہو گیا اور ان کی مختلف مثلوں نے پنجاب کے مختلف حصوں پر اپنی اپنی بالا دستی قائم کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔پنجاب کے عام مسلمان خصوصاً ان کے ظلم و انتقام کا نشانہ بنے۔ان مظلوموں کے تحفظ کی ذمے دار نہ دہلی کی حکومت تھی اور نہ کابل کی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکی۔مغلیہ عہد کا خوشحال پنجاب اس دور میں ایسا بد حال ہوا کہ اس پر آنسو بہانے والا بھی کوئی نہ رہا۔۱۷۹۸ء میں شاہ زمان والی کابل آخری بار خراج وصول کرنے لاہور آیا اور واپسی پر دریائے جہلم سے بھاری تو ہیں گزارنے کے صلے میں لاہور کی حکومت کا پروانہ رنجیت سنگھ کو دے گیا جس نے ۱۷۹۹ء میں لاہور پر قبضہ کر کے ستلج اور اٹک کے درمیان اپنی حکومت قائم کر لی اور ۱۸۰۹ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ امرتسر کر کے پنجاب اور سرحد پر ایک خود مختار حکمران کے طور پر اپنی وفات (۱۸۳۹ء) تک حکومت کرتا رہا۔رنجیت سنگھ کے جانشینوں کی باہمی کشمکش اور خالصہ فوج کی خود سری کی وجہ سے دس سال کے اندر سکھ راج کا خاتمہ ہوا اور پنجاب کا الحاق ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقبوضات سے ہو گیا جو پلاسی (۱۷۵۷ء) اور بکسر (۱۷۶۴ء) کی جنگوں کے بعد، جنوب میں ٹیپو سلطان اور وسطی ہند میں مرہٹوں وغیرہ کی قوت مزاحمت کو ختم کر کے بتدریج شمال میں ستلج یک پھیل چکے تھے۔ان واقعات پر طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ سب سے آخر میں ہوا اور اس قبضے کی روداد برصغیر کے دوسرے علاقوں پر قبضے سے خاصی مختلف تھی۔پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔۱۷۵۶ء سے ۱۷۹۹ء تک پنجاب بظاہر کابل کے ماتحت ایک صوبہ تھا لیکن عملاً یہاں بھی سکھ گردی کے تحت خوف و دہشت کی فضا چھائی ہوئی تھی۔۱۷۹۹ء سے ۱۸۴۹ء تک پچاس سال یہاں رنجیت سنگھ اور اس کے جانشین حکمران رہے۔پنجاب اور سرحد کے لئے یہ سکھا شاہی اگر چہ سکھ گردی کے مقابلے میں نسبتاً عافیت کا دور تھا، تاہم یہاں کے مسلمانوں کے لئے پہلی اذیت (سکھ گردی) کے مقابلے میں یہ عافیت (سکھا شاہی ) بھی جبر و استبداد ہی کی قدرے معتدل صورت تھی، کیونکہ اس میں نہ کوئی قانون تھا نہ ضابطہ نہ داد تھی نہ فریاد، بس ایک مسلح مذہبی گروہ کا راج تھا جو دوسروں کو عزت آبرو سے جینے کا حق دینے کو تیار نہ تھا۔"Every sikh enjoyed all the privileges of khalsa citizenship_ exemption from taxation,liberty to oppress, and opportunity to live like a freelooter۔His (Ranjit Singh's) rule was a tyranny of force۔He had no system, no conception of duty to his subjects: he and his people gloried in their ignorance: in his time there were no law courts, no schools, no jails in the Punjab:the only punishment known were fines for the rich, and mutilation-- the lopping off of arm or leg-for the poor; until well into the sixties maimed specimens of his inhumanity were seen in every town and large village of the Punjab۔"(S۔S۔Thorburn: The Punjab in Peace and War, Page23) ان حالات میں جب کہ مسلمان ایک صدی سے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے تھے اور رنجیت سنگھ کے بعد کی لاقانونیت نے تو ہندو اور سکھ عوام کے لئے بھی مصائب پیدا کر دیئے تھے ، پنجاب میں انگریزی حکومت کا قیام ایک طویل عرصہ کی جھلسا دینے والی گرم ٹو کے بعد برکھارت آنے کے برابر تھا۔اس تبدیلی پر یہاں کے عوام نے اطمینان کا سانس لیا اور زندگی کی تعمیر نو میں مصروف ہو گئے۔انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد یہاں نظم ونسق کے قیام اور امن و امان کی بحالی پر خصوصی توجہ مبذول کی اور یہی اس وقت اس خطے کی سب سے بڑی ضرورت تھی ، ان قلعوں اور گڑھیوں کو مسمار کر دیا گیا جو سکھوں نے جگہ جگہ اپنی کمین گاہوں کے طور پر بنا رکھی j