برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 9
فصل wwwwwww نا غدر اور مسلمان سپاہیوں کے مجاہدانہ کارنامے کچھ ۱۵ وسطی ہند کی محافظ رجمنٹ۔مرہٹہ ہارس رجمنٹ کا حصہ دار بنا دیا گیا۔ملک صاحب خاں نے ۱۸۶۲ء میں فوجی ملازمت کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر مکتاب کی سرپرستی سے کئی ذاتی نہریں کھدوانے کا اہتمام کیا جن سے ٹوانوں کی نیم جاگیردارانہ قوت میں نمایاں اضافہ ہوا اور جس کی بدولت ٹوانہ ریاست تقسیم ہند تک پنجاب کے سیاسی افق پر چھائی رہی۔اب رنجیت سنگھ اور انگریزوں کی وفادار اور جانثار فوج کے مجاہدانہ کارناموں کا مختصر سا (تلخیص کتاب خضر حیات ٹوانہ ترجمہ صفحہ ۴۹ تا ۶ مترجم طاہر کامران، ناشر فکشن ہاؤس ۱۸، مزرنگ روڈ لا ہور ) ٹوانہ خاندان نے برطانوی حکومت کے استحکام اور اقتدار کو بڑھانے کے لئے جو ذکر کیا جاتا ہے۔کتاب خضر حیات ٹوانہ" کے مولف این ٹالبوٹ کی تحقیق یہ ہے کہ سکھوں کی آخری جنگ اور غدر ۱۸۵۷ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بھر پور امداد نے برطانوی راج میں ٹوانہ خاندان کو مالا مال کر دیا کیونکہ انگریزوں نے ان کے جہاد آزادی پر انہیں نقد رقوم ، زرعی زمینوں اور خطابات سے نوازا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ فوج میں پنجابی سپاہیوں میں ان کا کردار نمایاں رہے جس کی بدولت بے شمار ٹو انے انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے۔ٹوانے غرز ۱۸۵۷ء کے دوران ملک صاحب خاں مٹھہ ٹوانہ نے انگریز ڈپٹی کمشنر کی خدمت میں ساڑھے تین سوگھوڑ سوار مع ان کی خوراک اور اسلحہ دینے کی پیشکش دنی جس کے بعد جہلم اور اجنالہ کے باغیوں کو گرفتار کیا گیا۔جان نکلسن کی سرکردگی میں دہلی فتح کرنے والی ٹوانہ فوج کے گھوڑ سواروں کی تعداد ایک ہزار تھی۔صاحب خان کے بھائیوں اور بھتیجوں کا لشکر جرار اس کے علاوہ تھا۔ٹوانہ افواج نے دہلی کے باغیوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور بوڑھا مغل بادشاہ بہادر شا والفقر اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا۔غدر کے بعد ”جہاد آزادی کیا ، یہ اس کی ایک ادنی سی جھلک ہے۔اس کتاب میں مندرجہ ذیل فوجی خدمات کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔جان لارنس کے ایماء پر ایڈورڈ صاحب بہادر کے ماتحت ۱۸۴۹۸ء میں ۴۰۰ سواروں سے امدادی غدر کے دوران جرنیل وان کورٹ لینڈٹ کی سرکردگی میں ٹوانہ رجمنٹ کی سرفروشیوں کی روداد۔جنرل جیرالڈ کے ماتحت نارنول ضلع گاڑگاؤں کے باغیوں کا صفایا جس نے ملک فتح شیر خاں کو انگریز سلطنت کا ” جانباز سپاہی اور نمک حلال‘ ثابت کیا اس کے صلہ میں خان بہادر کا خطاب دو ہزار کی دوائی جاگیر اور ۵۰۰سو کی مین حیات پنشن انگریز سے عطا ہوئی اور انگریز مملکت کے درباریوں میں ہمیشہ ممتاز رہے۔ملک صاحب خاں نے مسٹر کو پر صاحب بہادر کے ماتحت ملٹن نمبر ۲۶ کے باغیوں سے اجنالہ کے باغیوں کو گرفتار کیا۔- ملک شیر محمد خاں کے ۱۸۵۸ء میں کمانڈر انچیف کے ماتحت اودھ کی لڑائیوں میں کار فتح دہلی کے بعد صاحب خان اور اس کے بھائیوں کی افواج نے انگریزوں کے ساتھ کئی ہائے نمایاں۔اور مہمات میں بھی اپنی بہادری اور جہاد کے ایسے ایسے مصر کے سر کئے کہ ٹوانہ کے سپاہیوں کو تذکرہ روسائے پنجاب ( ترجمه ) جلد دوم صفحه ۲۹۰ تا ۲۹۵ متر جم نوازش علی ناشر سنگ میل پبلی کیشنز لا ہور۱۹۹۲ء) J