برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 6
A برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی فصل پنجاب انگریز سیاستدانوں کی تر قیاتی نگرانی میں خوب خوشحال ہو گیا ، جن کے ذمہ مہ اس کے نظم و نسق کا خوشگوار مگر کٹھن فرض سونپا گیا تھا۔(ایضاً صفر ۱۰۵۳٬۱۰۵۲) " برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی امیر افغانستان دوست محمد خاں کا ۹ جون ۱۸۶۲ کو ہرات میں انتقال ہو گیا اور ان کا بیٹا الحاق پنجاب کے بعد صوبہ کی شاندار ترقی کا زریں دور۔شیر علی جانشین بنا جسے انہوں نے اپنی زندگی ہی میں ولی عہد مقرر کر دیا تھا مگر افسوس امیر دوست محمد خان کے آنکھیں بند کرتے ہی افغانستان میں بھائیوں میں اقتدار کے لئے رسہ کشی شروع ہوگئی اور ہر طرف خوفناک خانہ جنگی کے شعلے بلند ہونے لگے۔شیر علی نے ایک حرکت یہ کی کہ اس نے اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف اپنے باپ کے انگریزوں سے کئے ہوئے معاہدے کو پارہ پارہ کر کے روس سے تعلقات و روابط قائم کر لئے نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزی اور مسلمان سپاہ نے نومبر ۱۸۷۸ء میں افغانستان پر حملہ کر دیا اس جنگ میں بھی مسلمانوں نے برطانوی افواج کے دوش بدوش داد شجاعت دی۔چنانچہ بالآخر اپریل ۱۸۸۰ء میں انگریز پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔بایں ہمہ انگریزوں نے امیر دوست محمد خان سے کئے گئے۔معاہدہ کی بہترین اخلاق اور کمال جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورا احترام کیا اور سیاسی تاریخ میں ایک انوکھی مثال قائم کی چنانچہ " مورخ پنجاب نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ: چونکہ حکومت اس ملک کو برطانوی علاقہ کے طور پر اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی تھی ، لہذا دوست محمد خاں کے خاندان کے زندہ بچ جانے والے سب سے بڑے فرد عبد الرحمن خان کو امیر مقرر کر دیا گیا۔ستمبر ۱۸۸۰ء میں برطانوی۔۔۔فوج۔۔۔درہ خیبر کے راستے واپس ہندوستان آگئیں۔وقتی طور پر قلعہ کی حفاظتی افواج کو لنڈی کو تل اور علی مسجد میں رکھا گیا لیکن آخر کار انہیں بھی واپس بلا لیا گیا۔جیسے ہی امیر عبدالرحمن خان نے جنوبی افغانستان پر اپنی بالا دستی قائم کرلی برطانوی فوج نے قندھار کو خالی کر دیا ترجمه تاریخ پنجاب صفحه ۱۰۷۳ نظر اور : [ < مجھے 449 الا مورخ پنجاب اور پاکستان کے معروف سکالر جناب ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار صاحب تحریر فرماتے ہیں: الحاق پنجاب ( مارچ ۱۸۴۹ء) سے اس خطے میں سیاسی ، انتظامی اور معاشی تبدیلیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا۔۱۸۵۷ء کا انقلاب برصغیر کی سیاسی و تمدنی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا لیکن پنجاب میں نئے دور کا آغاز آٹھ سال قبل ۱۸۴۹ء سے ہو چکا تھا۔ہمارے نزدیک برّصغیر اور پنجاب میں اس فرق کے کچھ معقول اسباب ہیں جنہیں سمجھے بغیر نہ اس تبدیلی کو پوری طرح محسوس کیا جا سکتا ہے اور نہ پنجاب کے آئندہ حالات کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ واقعات کے سلسلہ میں چند اہم تبدیلیوں کا یہاں ذکر کر دیا جائے۔پنجاب ۱۷۵۶ء تک مغلیہ سلطنت کا ایک حصہ تھا اور یہاں کا صوبیدار ، بادشاہ دہلی کی طرف سے نظم ونسق کا ذمہ دار تھا۔دہلی پر احمد شاہ ابدالی کی یلغار (۱۷۵۶ء) کے بعد پنجاب ابدالی کی سلطنت کا حصہ بن گیا اور یہاں کے صوبیدار کا تقرر شاہ کا بل کی طرف سے ہونے لگا۔چنانچه ای سال لاہور کا پہلا افغان گورنر احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تیمور خان مقرر ہوا۔لیکن تیمور خاں اور بعد کے افغان گورنر ( بلند خاں، کابلی مل وغیرہ) سکھوں کو دبانے ، امن و امان قائم رکھنے اور نظم ونسق بحال کرنے میں ناکام رہے۔حتی کہ احمد شاہ ابدالی نے ۱۷۶۱ء میں پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کی طاقت کو کچل دیا اور اس سے اگلے برس تلج پار کر کے لدھیانہ کے قریب کوٹ راہیرہ کے مقام پر سکھوں کو تباہ کن شکست دی۔لیکن نہ تو پانی پت کی فیصلہ کن جنگ کے بعد اُس نے دہلی کو اپنی حکومت کا مستقر بنایا اور برصغیر کے سیاسی و انتظامی خلا کو دور کرنے کی www الريان