برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 169

برکاتِ خلافت — Page 91

برکات خلافت 91 کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے میں دنیوی حیثیت کو بھی کفو کے ماتحت ہی خیال کرتا ہوں۔اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اس کی بھی ایک حد تک ضرورت تسلیم کرتا ہوں۔دوسرا سوال کفو کے ماتحت قومیت کا آتا ہے۔اور قوم کی پابندی بھی ایک حد تک ضروری ہے اور فطرتا اس کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔مثلاً اگر ایک اعلیٰ خاندان کا شخص اپنی لڑکی ایک ایسے شخص کو دے دے جو چوہڑے سے مسلمان ہوا ہو تو وہ لڑکی اپنے خاوند کو حقیر سمجھے گی۔اور اس وجہ سے ان میں ہمیشہ جنگ رہے گی اور جو نکاح کی غرض ہے فوت ہو جائے گی یا اور کوئی ایسا نقص ہو جس کی وجہ سے بیوی خاوند کو یا خاوند بیوی کو حقیر خیال کرے تو ایسے جوڑ کا نتیجہ ہمیشہ خراب نکلے گا۔اس لئے اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے کہ کسی خاوند اور بیوی کے اخلاق و عادات تعلیم و تربیت اور تمدنی درجہ میں کوئی ایسا تین فرق نہ ہو جو ہمیشہ ان میں لڑائی کا باعث رہے اور قوموں کا اختلاف بھی دراصل انہی اختلافات کے باعث شروع ہوا ہے۔لیکن ایسی قو میں جو شریف ہیں اور شرافت کے کاروبار کرتی ہیں ان کو لڑکی دے دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔دیکھو حضرت مسیح موعود نے اپنی لڑکی کہاں دی ہے۔مغلوں میں نہیں دی۔پھر ہم بھائیوں میں سے ایک کی شادی بھی مغلوں میں نہیں ہوئی۔حتی کہ میں نے دوسری شادی کی ہے وہ بھی مغل نہیں ہیں۔پس میں کہتا ہوں کہ شرافت کا لحاظ رکھو۔کسی قوم میں جب دین داری اور شرافت ہوتو وہی اعلیٰ خاندان ہے۔اور اگر کوئی سید بھی ہے اور دین سے بے بہرہ ہے تو بھی وہ شریف نہیں ہے۔قرآن شریف نے ذاتوں کے متعلق کیا ہی خوب بیان فرمایا ہے کہ " يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ أَنْثَىٰ وَ جَعَلْنَكُمْ شُعُوباً وَّ قَبَائِلَ