برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 169

برکاتِ خلافت — Page 92

برکات خلافت 280 92 92 لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔“ ( الحجرات :۱۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک عورت اور مرد سے پیدا کیا ہے۔(اگر اس سے حضرت آدم اور حوا مان لئے جائیں تو یہ معنے ہوئے کہ ) پھر تم کو ایک دوسرے پر فضیلت ہی کیا ہے جبکہ تم ایک ہی عورت اور مرد کی پیدائش سے ہو۔پس تم کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں ہے یا یہ معنے ہوئے کہ تم سارے کے سارے عورت کے پیٹ سے ہی پیدا ہوئے ہو جس طرح ایک پیدا ہوا ہے اسی طرح دوسرا ہوا ہے اور اسی طرح جس طرح ایک مرد کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے اسی طرح دوسرا بھی ہوا ہے۔تو پھر تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت کس طرح ہوسکتی ہے۔اس حصہ آیت میں خدا تعالیٰ نے ناواجب فضیلت کا رڈ کیا ہے کہ تم تو ایک ہی ہو۔پھر ایک دوسرے پر فضیلت کیسی۔پھر فرمایا وَ جَعَلْنَكُمْ شُعُوباً وَ قَبَائِلَ اور ہم نے تم کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے اس حصہ آیت میں یہ فرمایا ہے کہ تو میں اور قبائل بھی کوئی شے ہیں آگے چل کر فرمایا کہ لِتَعَارَفُوا یعنی ان قوموں اور قبائل کی تقسیم کی غرض یہ نہیں کہ تم ایک دوسرے پر فخر کر و یا دوسروں کو حقیر خیال کرو بلکہ اس کی غرض تو صرف اتنی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی شناخت اور تعارف ہو سکے۔جیسے گورنمنٹ اپنی فوجوں اور محکموں میں تقسیم کر دیتی ہے۔جو چیز کثرت سے ہو اس کے افراد کو شناخت کرنے کے لئے کوئی تدبیر ہونی چاہئے اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قوموں کا رواج شروع ہوا ہے۔اور اللہ تعالیٰ بھی اسی حکمت کی طرف لوگوں کو متوجہ فرماتا ہے کہ شعوب و قبائل کی اصل غرض اسی قدر ہے۔دیکھو گورنمنٹ کی فوج چونکہ وسیع ہوتی ہے اس لئے وہ پہلے