برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 169

برکاتِ خلافت — Page 90

برکات خلافت 90 90 غیروں سے رشتہ ملنا تو محال ہے۔اب رہے اپنے ، وہ ایسے اعلیٰ درجہ کے خیالات رکھیں گے تو جماعت کا ایک حصہ سخت مصیبت میں پڑ جائے گا۔میں یہ نہیں کہتا کہ اگر کسی کو کوئی اچھا رشتہ ملے تو وہ اس سے انکار کر دے اور کہہ دے کہ میں تو کوئی غریب آدمی ہی تلاش کر کے اسے لڑکی دوں گا۔اگر خدا تعالیٰ کسی پر فضل فرماتا ہے تو وہ اس فضل کو رد نہ کرے۔لیکن میں اسے برا سمجھتا ہوں کہ لڑکیوں کو اس امید میں بٹھا رکھو کہ کسی مالدار آدمی سے ہی ان کا بیاہ کریں گے اگر کوئی آسودہ آدمی جو دین دار بھی ہو خواہش کرتا ہے تو بے شک اس سے رشتہ کر دو۔لیکن اگر کوئی ایسا موقع نہیں ملا اور ایک تمہاری حیثیت جیسی حیثیت والا یا اس کے قریب قریب کی حیثیت کا آدمی بھی درخواست کرتا ہے اور اس میں کوئی دینی نقص نہیں تو اسے اس خیال سے ردمت کرو کہ یہ مالدار نہیں۔اگر کسی کی اپنی تنخواہ سوروپیہ ماہوار ہو اور وہ کسی بڑے مالدار اور دولت مند کو تلاش کرے جو کہ بہت زیادہ دولتمند ہو تو یہ بات کبھی فتنہ کا موجب بھی ہو جاتی ہے کیونکہ ایسے تلاش کرنے والوں کو اکثر اوقات ایسے رشتے جب احمدیوں میں سے نہیں ملتے تو وہ اپنی لڑکی غیر احمد یوں کو دے دیتے ہیں۔اس غلط اور بیہودہ طریق تلاش کو چھوڑ کر ہر ایک احمدی کو اپنی حیثیت کا آدمی تلاش کرنا چاہئے تا کہ نہ لڑکی کو تکلیف ہو اور نہ غیروں کے گھر وہ جائے۔پچھلے زمانہ میں شریف لوگ اس طرح بھی کیا کرتے تھے کہ کسی غریب آدمی کو نیک بخت اور متقی دیکھ کر اپنی لڑکی دے دیا کرتے تھے اور ان دونوں کے اخراجات کے لئے خود کوئی سامان کر دیتے تھے۔آج کل بھی اگر کوئی ایسا ہی کر سکے تو بہت عمدہ بات ہے۔اور اگر نہیں کر سکتا تو اپنی حیثیت کے مطابق تلاش کرے۔جیسا