برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 169

برکاتِ خلافت — Page 89

برکات خلافت 89 قریب قریب لڑکے کو دیکھ لے تا کہ بعد میں میاں بیوی میں لڑائی ہی نہ ہوتی رہے یا کم سے کم لڑکی اپنے آپ کو مظلوم اور دکھیانہ خیال کرتی رہے۔لیکن اس احتیاط کے اس قدر پیچھے بھی نہیں پڑنا چاہئے کہ ہر شخص یہی چاہے کہ میری لڑکی کسی امیر الامراء کے ہاں ہی جائے کیونکہ اس طرح غرباء کی شادیاں تو پھر ناممکن ہو جائیں ہر شخص اپنی حیثیت کو دیکھ لیا کرے اور اگر تھوڑا سا فرق بھی ہو تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کیونکہ فساداسی رشتہ میں ہوتا ہے جس میں بہت بین فرق ہو۔مثلاً ایک امیر کی لڑکی کسی ایسے لڑکے سے بیاہ دی جائے جسے اس قدر بھی مقدرت نہ ہو کہ اسے دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلا سکے پس یہ بھی ہر گز نہیں ہونا چاہئے کہ ایک شخص مثلاً آپ تو غریب حیثیت کا ہے لیکن اپنی لڑکی کے رشتہ کے لئے اس کی یہی کوشش رہے کہ کوئی بڑا عہدہ دار ملے تو اس سے نکاح کروں۔جیسا یہ خود ہے ویسے ہی کسی نیک آدمی سے لڑکی کا بیاہ کر دے۔ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ایک شخص نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کو کہا کہ میری لڑکی یا بہن یاد نہیں کہ کیا رشتہ تھا) کے لئے کوئی رشتہ تلاش کروا دیں۔آپ نے جب چند نام بتائے تو اس نے کہا کہ نہیں میری لڑکی اس قابل نہیں۔اس کے لئے تو تحصیلدار یا اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر چاہئے یا کوئی اور ایسا ہی معزز عہدہ دار ہو۔حالانکہ یہ شخص خود بالکل معمولی حیثیت کا تھا اس طریق کو اختیار کرنے سے غرباء کے لئے سخت ابتلاء کا خوف ہے غیر احمدی تو احمدی کو تب ہی لڑکی دیتا ہے جب اسے خاص طور سے اپنے سے زیادہ آسودہ پاتا ہے کیونکہ اگر دنیاوی فائدہ نہ ہو تو اسے کیا ضرورت ہے کہ اپنی لڑکی کسی احمدی کو دے؟ الا ماشاء اللہ۔پس غرباء کو