برکاتِ خلافت — Page 88
برکات خلافت 88 88 غریب سے غریب احمدی کو بھی دے گا تو لڑکی کا دین تو ضائع نہیں ہوگا۔پھر حضرت مسیح موعودؓ کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس پہلی تجویز پر عمل کیا جائے۔لیکن جماعت کو بہت بڑے ایثار کی ضرورت ہے۔احمدیوں کو چاہئے کہ جب کوئی دین دار اور متقی لڑکا دیکھ لیں تو اگر وہ کسی قدر غریب بھی ہو تو بھی اسے لڑکی دے دیں۔کیا رشتہ دار اپنے سے نسبتاً غریب رشتہ داروں کو لڑکیاں نہیں دے دیا کرتے ؟ دیتے ہیں۔تو میں کہتا ہوں کہ احمدیوں کا احمدیوں سے زیادہ قریبی اور کون رشتہ دار ہو سکتا ہے؟ یہ سب رشتوں اور قربوں سے بڑھ کر قرب ہے۔پس تم پرانی رسموں کو ترک کر دو اور اس بات کی کوشش کرو کہ اگر تمہیں کوئی نیک اور سعید آدمی مل جائے تو قربانی کر کے بھی اس کولڑ کی دے دیا کرو۔قومیت کی وقت : شادیوں کے معاملہ میں ایک بڑی روک قومیت کی ہے۔میں کفو کا قائل ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس کے متعلق زور دیا کرتے تھے۔مگر ہر ایک چیز کی حد ہوتی ہے اور اسی حد کے اندر رہنا ہی مفید ہوتا ہے۔کفو کے یہ معنی ہیں کہ اپنی حیثیت اپنے رنگ اپنی طرز کا آدمی ہو اور شریف اور متقی ہو۔مثلاً ایک شخص بڑا مال دار ہو اور وہ ایک غریب اور فاقہ کش کولڑ کی دے دے تو یہ رشتہ دین کے لحاظ سے تو درست اور جائز ہوگا۔مگر وہ لڑکی جس نے مال دار گھر میں پرورش پائی ہے۔جب اس کے گھر جائے گی تو ان میں رنجش اور ناراضگی پیدا ہو جائے گی۔کیونکہ اس کو اخراجات کی اپنی عادت کے مطابق سخت تکلیف ہوگی اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک لڑکی والا اپنی حیثیت کے