برکاتِ خلافت — Page 161
برکات خلافت 161 میں بھی ہوتا ہے اور جس حد تک کوئی زیادہ محنت کرتا ہے اسی حد تک وہ زیادہ ثمرات حاصل کرتا ہے۔کوئی کہے کہ پھر اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کیا ہے جبکہ کامیابی انسان کی اپنی محنت اور کوشش پر ہے تو اس کو ہم بتاتے ہیں فرق یہ ہے کہ اگر ایک آدمی بٹالہ کی طرف جو سڑک جاتی ہے اس پر بٹالہ پہنچنے کے لئے چل پڑے تو خواہ وہ دو چار کو س چل کر تھک جائے پھر بھی پہنچ ہی جائے گا۔لیکن اگر کوئی دوسری طرف چل پڑے تو خواہ ساری عمر ہی چلتا رہے پھر بھی کبھی بٹالہ نہیں پہنچ سکے گا۔پس تم بھی اگر سید ھے راستہ پر جو کہ میں نے بتایا ہے چلو گے تو منزل مقصود تک پہنچو گے ورنہ نہیں پہنچ سکو گے۔نیت کئے بغیر کبھی تمہیں خدا نہیں ملے گا۔اور جو نیت کر لے گا اس کو رفتہ رفتہ مل ہی جائے گا۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْـنَـا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - (العنكبوت:٧٠) کہ وہ لوگ جو ہمارے رستہ میں ہمارے متعلق اپنے نفس سے ہر وقت جہاد اور لڑائی کرتے ہیں اور بدی سے لڑتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم اپنے تک پہنچنے والے راستوں پر پہنچائیں گے۔اس جگہ ایک نکتہ یادر کھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ یہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے سُبُلَنَا یعنی ہمارے رستے لیکن ایک جگہ فرمایا ہے وَإِنَّ هَذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْماً (الانعام:۱۵۴) یعنی صرف یہی ایک راستہ ہے جو مجھ تک سیدھا پہنچتا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ بہت سے راستے جھوٹے ہوتے ہیں لیکن سُبُلَنا سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے بھی کئی راستے ہیں سو ان دونوں آیتوں میں یوں تطبیق ہوتی ہے کہ ایک کے بعد دوسرا راستہ آجاتا ہے اور اس کے بعد تیسرا اور اس طرح بہت سے راستے بن جاتے ہیں ورنہ ایک