برکاتِ خلافت — Page 160
برکات خلافت 160 ہے کہ ان میں احساس نہیں ہے۔تم اپنے اندر احساس پیدا کرو۔تمہارا کوئی کام عادتاً اور رسما نہ ہو بلکہ سب کام خدا تعالیٰ کے لئے ہوں۔اس کے متعلق جو تدابیر ہیں وہ بھی میں تمہیں بتائے دیتا ہوں تا کہ تمہیں آسانی ہو جائے لیکن اس سے پہلے میں یہ بتا دیتا ہوں کہ کئی لوگوں کو ایک دھوکا لگ جاتا ہے۔غلط فہمی : اور وہ دھو کا یہ ہے کہ ادھر وہ بیعت کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور ادھر پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کیوں نظر نہیں آتا ان سے اگر پوچھا جائے کہ ایک شخص ایم اے کی ڈگری کتنے سالوں کے بعد حاصل کرتا ہے تو وہ کہیں گے کہ کم از کم ۶ اسال کے بعد۔تو ہم کہتے ہیں کہ جب دنیا کے علم کے لئے ۱۶ سال خرچ کرنے پڑے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا علم حاصل کرنے کے لئے ایک دن کے خرچ کرنے کے بعد ہی کیوں پوچھنے لگ جاتے ہو۔پہلے دن ہی جو سکول جا کر کہے کہ میں ایم اے بن جاؤں تو وہ ہر گز نہیں بن سکتا۔ایسے لوگ چند دن نماز پڑھتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ ہماری تائید نہیں کرتا۔کیوں ہمارے دشمن ذلیل اور خوار نہیں ہو جاتے۔لیکن کتنے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ اتنی جلدی روحانیت میں کمال پیدا ہو جانے کی خواہش کی جاتی ہے۔کھیت کے تیار ہونے کے لئے مہینوں انتظار کیا جاتا ہے۔ایم اے بننے کے لئے ۱۶ سال محنت اور کوشش کی جاتی ہے۔بچہ نو مہینے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور پھر کون سی ایسی چیز ہے جو بغیر محنت اور کوشش کے اور بغیر وقت کے میسر آسکتی ہے۔ہر ایک بڑی نعمت کے ساتھ کچھ دکھ اور تکالیف بھی ہوتی ہیں۔پس تم یا درکھو کہ جس طرح دنیا کے تمام کاموں میں محنتیں اور متواتر منتیں کرنی پڑتی ہیں اسی طرح دین کے کاموں