برکاتِ خلافت — Page 68
برکات خلافت 68 80 لئے ہیں۔کسی زمانہ میں تو یہ حکم ہے کہ خوب اپنے حقوق طلب کرو اور کسی زمانہ میں یہ حکم ہے کہ جو کچھ ملتا ہے اسے خاموشی سے قبول کرو۔مقابلہ تو الگ رہا حکام سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی نہ کرو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زمانہ حکومتوں پر ایسا ہوتا ہے کہ ان کی حالت ایسی نازک ہو جاتی ہے کہ اگر وہ اپنی پہلی حالت پر چلی جائیں تو چلی جائیں لیکن اگر ان کی حالت میں ذرہ بھی تغیر آ جائے تو خواہ وہ بہتری کی طرف ہی ہو لیکن وہ مہلک ثابت ہوتا ہے کیونکہ کمزوری ظاہر ہو جاتی ہے۔ایسی حالت میں ملک کا حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا اس کی تباہی کا یقینی باعث ہو جاتا ہے۔پس ایسی حالت میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکام سے حقوق طلب کرنے سے بھی روک دیا تا ایسا نہ ہو کہ حقوق طلب کرتے کرتے اپنی حکومت کو ہی تباہ نہ کر لیں۔لیکن دوسرے اوقات میں جب یہ حالت نہ ہو تو خاص حدود کے اندر حقوق کا مطالبہ جائز رکھا حضرت مسیح موعود کا حکم بھی اسی طرح خاص مصالح کے ماتحت ہے۔سیاست کیا چیز ہے؟ : ایک قصہ گولکھتا ہے کہ ایک دیوار تھی جو اس کے اوپر چڑھ کر اس میں جھانکتا پھر نہ لوٹ سکتا بلکہ ہنستا ہنستا اندر ہی کود پڑتا۔یہ قصہ تو جھوٹ ہے کہ ایسی کوئی دیوار تھی کہ جو اسے دیکھتا تھا وہ اس کے اندر ہی غائب ہو جا تا تھا۔لیکن اس پر غور کریں تو سیاست ایک ایسی ہی دیوار ہے۔چونکہ انسان کی طبیعت عاجلہ کو پسند کرتی ہے اور جس کام کا فائدہ اسے جلد مل جائے وہ اسے بہت پسند کرتا ہے اور دیر کو پسند نہیں کرتا اس لئے لوگ ایسے کاموں کے در پے ہو جاتے ہیں جن کے کرنے سے فوری فوائد حاصل ہوں۔اور سیاست بھی انہی چیزوں میں سے ہے جن کے فوائد جلد تر حاصل ہوتے ہیں۔پس جب لوگ دیکھتے ہیں کہ سیاست کی وجہ سے جلدی دولت