برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 169

برکاتِ خلافت — Page 69

برکات خلافت 69 حکومت اور رتبہ مل جاتا ہے تو اس کی طرف دوڑ نے لگ پڑتے ہیں۔جس طرح کہا جاتا ہے کہ جب ایک دفعہ شیر کے منہ کو آدمی کا لہو لگ جاتا ہے تو پھر وہ ہر وقت انسان کے شکار کی تاک میں ہی رہتا ہے۔اور پہلے اگر ایک دو آدمیوں سے بھاگ جاتا تھا تو پھر میں چالیس آدمیوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اسی طرح سیاست کا خون جس کسی کے منہ کو لگ جاتا ہے پھر وہ اسے نہیں چھوڑ سکتا اور اس کے اندر ہی اندر گھستا جاتا ہے۔سیاسی معاملات میں پڑنے کا پہلا خطرناک نتیجہ: چونکہ ایک طرف تو سیاست ایک ایسی چیز ہے جو اور سب کچھ بھلا دیتی ہے حتی کہ جان تک کی بھی ہوش نہیں رہنے دیتی اور اپنی طرف ہی کھینچتی جاتی ہے۔اور دوسری طرف آج کل اسلام پر جو نازک وقت آیا ہوا ہے اس سے پہلے اس پر کبھی نہیں آیا اس لئے اس وقت اسلام کو جتنے بھی ہاتھ کام کے لئے مل جائیں اور جس قدر بھی سپاہی اسلام کی حفاظت کے لئے مل جائیں اتنے ہی کم ہیں۔اس لئے آج مسلمانوں کے لئے سیاست کی طرف متوجہ ہونا ایک ایسا زہر ہے جسے کھا کر ان کا بچنا محال بلکہ ناممکن ہے کیونکہ سیاست بہت بڑی توجہ کو چاہتی ہے اور جو شخص سیاست میں پڑتا ہے وہ بالکل سیاست ہی میں غرق ہو جاتا ہے۔آج یورپ میں ایسی جنگ ہو رہی ہے کہ ہر ایک سلطنت کو جس قدر بھی سپاہی مہیا ہو سکتے ہیں اتنے ہی مہیا کرتی ہے اور عورتوں اور لڑکے لڑکیوں تک کولڑائی میں مدد دینے کے قواعد سکھائے جارہے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسی خطرناک جنگ ہے کہ تھوڑے سپاہیوں سے کام نہیں چل سکتا۔مگر اسلام کو جو جنگ در پیش ہے وہ اس یورپین جنگ سے بہت بڑھ کر ہے اور ا کیلے اسلام کو کل دنیا سے مقابلہ ہے اور دشمن ایسا قوی ہے کہ اسلام کے