برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 169

برکاتِ خلافت — Page 67

برکات خلافت 67 20 صاحب نے جو اپنی جماعت کو جائز حد تک بھی سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ سیاست بالذات بری ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت اس میں حصہ لینا بجائے فوائد کے نقصان کا باعث ہے چنانچہ میں اس امر کی مزید تشریح کرتا ہوں۔حدیث میں آتا ہے سَتَكُوْنُ آثَرَةٌ وَأُمُوْرٌ تُنْكِرُوْ نَهَا قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللَّهِ فَمَا تَأمُرُنَا قَالَ تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَتَسْأَلُوْنَ الله الَّذِى لَكُمْ ( بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام) یعنی ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ ایسے حاکم ہو جائیں گے کہ جو اپنے لئے بھلائی چاہیں گے اور تمہارے آرام کی فکر نہ رکھیں گے اور ایسے امور ظاہر ہوں گے جو تم کو برے معلوم ہوں گے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسے وقت میں ہمیں کیا حکم ہے یعنی ہم اس وقت کیا کریں۔کیا حکام کا مقابلہ کریں اور ان کو سیدھا کریں فرمایا جو حکام کے حقوق تمہارے ذمہ ہیں ان کو تم ادا کر دو۔اور جو تمہارے حقوق ان کے ذمہ ہیں انہیں خود طلب نہ کرو۔بلکہ اللہ تعالیٰ پر ڈال دو کہ وہ خود ان کا ذمہ دار ہو۔اس کے مقابلہ میں حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ عِرْضِهِ وَمَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ جواپنی عزت اور مال کے بچانے کے لئے کوشش کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔پس ایک طرف تو مال و عزت کی حفاظت میں مارے جانے والے کو آپ شہید فرماتے ہیں اور دوسری طرف ارشاد ہوتا ہے کہ حکام جو کچھ بھی ظلم کریں صبر کرنا۔اور ان کے ظلم کے مقابلہ میں خود ہاتھ نہ اٹھانا۔اپنے حقوق کا مطالبہ بھی ان سے نہ کرنا بلکہ اسے بھی اللہ پر ہی چھوڑنا۔ان دونوں حکموں کو ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حکم مختلف اوقات کے بخاری کتاب المظالم باب من قُتِلَ دون ماله ( مفهومًا)