برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 169

برکاتِ خلافت — Page 45

برکات خلافت 45 کے وقت خلافت کا ممد و معاون رہا ہوں۔میں اس شک کو بھی دور کر دینا چاہتا ہوں کہ کیوں اس رؤیا کو شیطانی نہ خیال کیا جائے اور وہ اس طرح کہ اول تو اس رویا کو حضرت مسیح موعود نے قدر کی نگاہوں سے دیکھا اور لکھ لیا۔اور اپنے الہاموں کی کاپی میں لکھا پھر یہ رویا دو سال بعد حرف بہ حرف پوری ہوئی اور جو رؤیا اس شان کے ساتھ پوری ہو وہ شیطانی نہیں ہوسکتی کیونکہ پھر شیطان اور رحمن کے کلام میں کیا فرق رہ جائے گا؟ اور کیوں نہ لوگ ہر ایک الہام کو شیطانی کہہ دیں گے۔مسئلہ خلافت کے متعلق دوسری آسمانی شہادت : ۱۹۰۹ء کی بات ہے ابھی مجھے خلافت کے متعلق کسی جھگڑے کا علم نہ تھا صرف ایک صاحب نے مجھ سے حضرت خلیفہ اسی خلیفہ اول کی خلافت کے قریباً پندرھویں دن کہا تھا کہ میاں صاحب اب خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کچھ غور کرنا چاہئے جس کے جواب میں میں نے ان سے کہا کہ یہ وقت وہ تھا کہ سلسلہ خلافت قائم نہ ہوا تھا جبکہ ہم نے بیعت کر لی تو اب خادم مخدوم کے اختیارات کیا مقرر کریں گے۔جس کی بیعت کی اس کے اختیارات ہم کیونکر مقرر کر سکتے ہیں اس واقعہ کے بعد کبھی مجھ سے اس معاملہ کے متعلق کسی نے گفتگو نہ کی تھی اور میرے ذہن سے یہ واقعہ اتر چکا تھا کہ جنوری ۱۹۰۹ء میں میں نے یہ رویا دیکھی کہ ایک مکان ہے بڑا عالیشان سب تیار ہے لیکن اس کی چھت ابھی پڑنی باقی ہے کڑیاں پڑ چکی ہیں ان پر اینٹیں رکھ کر مٹی ڈال کر کوٹنی باقی ہے۔ان کڑیوں پر کچھ پھونس پڑا ہے اور اسکے پاس میر محمد الحق صاحب کھڑے ہیں اور ان کے پاس میاں