برکاتِ خلافت — Page 44
برکات خلافت 44 مسیح موعود کو پیش کرتا ہوں۔شاید بعض لوگوں کو تعجب ہو کہ حضرت مسیح موعود تو فوت ہو چکے ہیں آپ کیونکر اس دنیا میں واپس آکر میری صداقت کی گواہی دے سکتے ہیں تو میں ان کو بتا تا ہوں کہ گو حضرت مسیح موعود فوت ہو چکے ہیں۔لیکن پھر بھی وہ اس بات کی شہادت دے دیں گے کہ واقعہ میں ۸ مارچ کو میں نے یہ رویا دیکھی تھی اور وہ اس طرح کہ جس رات کو میں نے یہ رویا دیکھی اسی صبح کو حضرت والد ماجد کو سنایا آپ سن کر نہایت متفکر ہوئے اور فرمایا کہ مسجد سے مراد تو جماعت ہوتی ہے شاید میری جماعت کے کچھ لوگ میری مخالفت کریں یہ رویا مجھے لکھوا دے۔چنانچہ میں لکھواتا گیا اور آپ اپنی الہاموں کی کاپی میں لکھتے گئے پہلے تاریخ لکھی پھر یہ لکھا کہ محمود کی رؤیا پھر تینوں رو یا لکھیں۔ان تینوں رویا کے ارد گرد اس سے پہلی اور پچھلی تاریخوں کے الہام حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے موجود ہیں۔( کاپی لوگوں کو دکھائی گئی ) اور یہ کاپی اب تک میرے پاس ہے اور ہر ایک طالب حق کو دکھائی جاسکتی ہے جو لوگ حضرت مسیح موعود کے دستخط پہچانتے ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ سب کا پی حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور کئی سال کے الہام اس میں درج ہیں اور یہ میری رویا بھی آپ ہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی اس میں موجود ہے۔یہ ایک ایسی شہادت ہے کہ کوئی احمدی اس کا انکار نہیں کر سکتا کیونکہ ایسے کھلے کھلے نشان کا جو شخص انکار کرے گا اسے ہر ایک صداقت کا انکار کرنا پڑے گا۔اس رؤیا کے معلوم کر لینے کے بعد ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ کیوں مجھے خلافت کے مسئلہ میں اس قدر یقین اور تسلی ہے اور کیوں میں ہر ایک مقابلہ کی پرواہ نہ کر کے فتنہ