برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 169

برکاتِ خلافت — Page 46

برکات خلافت 46 بشیر احمد اور نثار احمد مرحوم ( جو پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی کا صاحبزادہ تھا) کھڑے ہیں۔میر محمد الحق صاحب کے ہاتھ میں ایک ڈبیہ دیا سلائیوں کی ہے اور وہ اس پھونس کو آگ لگانی چاہتے ہیں۔میں انہیں منع کرتا ہوں کہ ابھی آگ نہ لگائیں نہیں تو کڑیوں کو آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ایک دن اس پھونس کو جلایا تو جائے گا ہی لیکن ابھی وقت نہیں۔بڑے زور سے منع کر کے اور اپنی تسلی کر کے میں وہاں سے لوٹا ہوں لیکن تھوڑی دور جا کر میں نے پیچھے سے کچھ آہٹ سنی اور منہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر محمد الحق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں وہ نہیں جلتیں پھر اور نکال کر ایسا ہی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد اس پھونس کو آگ لگا دیں۔میں اس بات کو دیکھ کر واپس بھا گا کہ ان کو روکوں لیکن میرے پہنچتے پہنچتے انہوں نے آگ لگا دی تھی میں اس آگ میں کود پڑا اور اسے میں نے بجھا دیا۔لیکن تین کڑیوں کے سرے جل گئے یہ خواب میں نے اسی دن دو پہر کے وقت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنائی جو سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ یہ خواب تو پوری ہوگئی ہے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میرمحمد طلق صاحب نے چند سوالات لکھ کر حضرت خلیفہ اسی کو دیئے ہیں جن سے ایک شور پڑ گیا ہے۔اس کے بعد میں نے حضرت خلیفہ اسیح کو یہ رؤیا لکھ کر دی اور آپ نے وہ رقعہ پڑھ کر فرمایا کہ خواب پوری ہوگئی ہے اور ایک کاغذ پر مفصل واقعہ لکھ کر مجھے دیا کہ پڑھ لو جب میں نے پڑھ لیا تو لے کر پھاڑ دیا۔اس رویا کے گواہ مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں ان سے دریافت کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ یہ رویا حرف بہ حرف پوری ہوئی اور ان سوالات کے جواب میں بعض آدمیوں کا نفاق ظاہر ہو