برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 169

برکاتِ خلافت — Page 22

برکات خلافت 22 گزارنے کے لئے جاتا ہوں۔اس کے بعد میں ان سے ملنے کے لئے ان کے گھر گیا۔میرے ساتھ نواب صاحب بھی تھے۔جب ہم ان کے پاس جا کر بیٹھے تو کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ترجمہ قرآن کے متعلق کچھ گفتگو ہوئی۔پھر ڈاکٹر صاحب نے اصل مطلب کی طرف کلام کی رو پھیرنے کے لئے کہا کہ میاں صاحب آپ کے خط پر خود آپ کے پاس آئے ہیں۔ابھی یہ بات انہوں نے کہی ہی تھی کہ مولوی صاحب نے ایک ایسی حرکت کی جس سے ہم نے سمجھا کہ یہ ہمیں ٹالنا چاہتے ہیں۔ممکن ہے کہ ان کا مطلب یہ نہ ہو۔اس وقت انہیں کم از کم یہ تو خیال کرنا چاہئے تھا کہ ہم گوا سے نہیں مانتے لیکن جماعت کے ایک حصہ نے اس کو امام تسلیم کیا ہے۔ایک آدمی جس کا نام بگا ہے وہ کوٹھی کے باہر ان کو نظر آیا انہوں نے فوراً اس کو آواز دی کہ آمیاں بگا تو لاہور سے کب آیا کیا حال ہے اور اس سے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔یہ دیکھ کر ہم اٹھ کر چلے آئے۔میں نے ان کی اس حرکت سے یہ نتیجہ نکالا کہ شاید وہ اس معاملہ کے متعلق گفتگو کرنی ہی نہیں چاہتے۔واللہ اعلم۔ان کی یہ منشاء تھی یا نہ لیکن میرے دوسرے ساتھیوں کا بھی ایسا ہی خیال تھا اس لئے ہم چلے آئے۔اتحاد کی کوشش: ان باتوں کے علاوہ میں نے قوم کے اتحاد اور اتفاق کے قائم رکھنے کے لئے اور بھی تجویزیں کیں۔جب حضرت خلیفہ امسیح کی حالت بہت نازک ہوگئی اور مجھے معلوم ہوا کہ بعض لوگ مجھے فتنہ گر کہتے ہیں۔تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میں قادیان سے چلا جاؤں اور جب اس بات کا فیصلہ ہو جائے تو پھر آجاؤں گا۔میں نواب صاحب کی کوٹھی سے جہاں حضرت خلیفہ اسیح بستر علالت پر پڑے تھے گھر آیا اپنی