برکاتِ خلافت — Page 23
برکات خلافت 23 23 بیٹھک کے دروازے کھول کر نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے مولی ! اگر میں فتنہ کا باعث ہوں۔تو مجھے اس دنیا سے اٹھا لیجئے یا مجھے توفیق دیجئے کہ میں قادیان سے کچھ دنوں کے لئے چلا جاؤں۔دعا کرنے کے بعد پھر میں نواب صاحب کی کوٹھی پر آیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا کہ ہم ذمہ دار ہوں گے تم یہاں سے مت جاؤ۔میں ایک دفعہ قسم کھا چکا ہوں اور پھر اسی ذات کی قسم کھا تا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور جو اس گھر ( مسجد ) کا مالک ہے اور میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں جو آسمان اور زمین کا حاکم ہے اور جس کی جھوٹی قسم لعنت کا باعث ہوتی ہے اور جس کی لعنت سے کوئی جھوٹا بچ نہیں سکتا کہ میں نے کسی آدمی کو کبھی نہیں کہا کہ مجھے خلیفہ بنانے کے لئے کوشش کرو۔اور نہ ہی کبھی خدا تعالیٰ کو میں نے یہ کہا کہ مجھے خلیفہ بنائیو۔پس جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے خود اپنے فضل سے چن لیا ہے تو میں کس طرح اسے نا پسند کرتا؟ کیا اگر تمہارا کوئی دوست تمہیں کوئی نعمت دے اور تم اس کو لے کر نالی میں پھینک دو۔تو تمہارا دوست خوش ہوگا ؟ اور تمہاری یہ حرکت درست ہوگی؟ ہر گز نہیں۔تو اگر خدا تعالیٰ نعمت دے تو کون ہے جو اس کو ہٹا سکے۔جب دنیا کے دوستوں کی نعمتوں کو کوئی رد نہیں کرتا بلکہ بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو میں خدا تعالیٰ کی دی ہوئی اس نعمت کو کس طرح رد کر دوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو رد کرنے والوں کے بڑے خطرناک انجام ہوتے رہے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم کے لوگ طور پر گئے۔خدا تعالیٰ نے ان کو فرمایا تھا کہ آؤ ہم تم سے کلام کریں۔وہاں جب زلزلہ آیا تو وہ ڈر گئے اور کہنے لگے کہ ہم خدا کی باتوں کو نہیں سننا