برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 169

برکاتِ خلافت — Page 21

برکات خلافت 21 ان کی ہتک ہوئی ہے اس وقت مجھے اس بات کا علم ہوا۔اور اگر اسی وقت مجھے علم ہو جاتا تو میرا کیا حق تھا کہ میں کسی کو روک دیتا اور ایسا نہ کرنے دیتا۔اور لوگوں کو مجھ سے اس وقت کون سا تعلق تھا؟ جس کی وجہ سے وہ میری بات ماننے کے لئے تیار ہو جاتے۔اس وقت تک تو کوئی شخص جماعت کا امام مقرر نہ ہوا تھا۔ایک اور واقعہ اسکے بعد ایک اور واقعہ ہوا۔اور وہ یہ کہ میں نے سنا کہ مولوی محمد علی صاحب قادیان کو چھوڑ کر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔میں نے انہیں لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں۔آپ ایسا کیوں کرتے ہیں آپ اپنی تکلیف مجھے لکھیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے میں نے لکھ کر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو دیا کہ آپ ان کے پاس لے جائیں۔میں نے کسی ملازم وغیرہ کے ہاتھ خط دے کر اس لئے نہ بھیجا تا کہ وہ یہ نہ کہیں کہ کسی اور آدمی کے ہاتھ خط بھیجنے سے میری ہتک ہوئی ہے۔ڈاکٹر صاحب کو میں نے یہ بھی کہا کہ آپ جا کر ان سے پوچھیں کہ آپ یہاں سے کیوں جاتے ہیں ؟ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔اس کا جواب یہ دیا گیا کہ بھلا ہم قادیان کو چھوڑ کر کہیں جاسکتے ہیں؟ آپ کو معلوم ہی ہے کہ میں نے چھٹی لی ہوئی ہے اسے پورا کرنے کے لئے جاتا ہوں۔جواب کے آخر میں یہ بھی لکھا تھا کہ میرے جانے کی یہ وجہ بھی ہے کہ آج کل چونکہ بعض طبائع میں جوش ہے اس لئے میں نے خیال کیا ہے کہ کچھ عرصہ باہر رہوں تا کہ جوش کم ہو جائے ایسا نہ ہو پٹھانوں میں سے کوئی جوش میں مجھ پر حملہ کر بیٹھے۔لیکن اس خط میں زیادہ تر زور اس بات پر دیا گیا تھا کہ ہم قادیان چھوڑ کر کہاں جا سکتے ہیں؟ میں تو چھٹی کے ایام باہر