برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 169

برکاتِ خلافت — Page 163

برکات خلافت 163 کے بتائے ہوئے معنوں کے خلاف ہوں۔(۳) جو معنی لغت عرب کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو۔(۴) جو معنی صرف ونحو کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو صرف و نحو کی کیا پرواہ ہے وہ کسی کے بنائے ہوئے قاعدوں کا پابند نہیں ہے۔لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ کو پرواہ نہیں ہے۔لیکن ہم انسانوں کو تو ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی کلام ایسی نہیں ہے جو ہم سمجھ سکیں تو اسکا فائدہ کیا۔قُلِ اللَّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ کے یہ معنے کہ اللہ منوا کر چھوڑ دو۔منکر ان خلافت کے امیر مولوی محمد علی صاحب نے صرف ونحو کی لاعلمی سے ہی کئے ہیں اللہ پر پیش ہے۔لیکن زبر سمجھ لی گئی اور یہ معنی کر دیئے گئے۔(۵) حضرت مسیح موعود جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم اور عدل ہو کر آئے تھے ان کے کئے ہوئے معنوں کے بھی خلاف نہیں ہونے چاہئیں۔(۶) جن معنوں کی کوئی آیت تصدیق نہ کرتی ہو اور وہ عقل کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کر وہاں اگر نص صریح بتا دے تو پھر اس میں عقل کو مت دخل دو۔البتہ جو استدلال کیا جائے اس میں عقل کا دخل ہونا چاہئے۔(۷) کوئی معنے ایسے نہ کرو جو خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں فرق ڈالنے والے ہوں۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس پر مفصل تقریر کرتا کہ کس طرح قرآن شریف کے صحیح معنے کئے جا سکتے ہیں۔لیکن نہ وقت ہے اور نہ ہی بوجہ حلق کی تکلیف کے طاقت ہے اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو پھر سہی۔پھر خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً وَّسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَأَصِيْلا O هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَ مَلْئِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّوْرِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ